پابندیوں کی منسوخی بغیر امریکہ کی جوہری معاہدے میں واپسی ایک طرح کا بلیک میل ہے

تہران، ارنا- ایران میں فارن پالیسی کی اسٹریٹجک کونسل کے چیئرمین نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کو ایران کیخلاف پابندیوں کو اٹھانے بغیر جوہری معاہدے میں از نو شمولیت کا ارادہ ہے تو یہ ایک طرح کا بلیک میل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ہر کسی قسم کی پابندیوں کو اٹھانے کیلئے کوئی درخواست کرے گا تو اسی لیے یہ کوئی منطقی اور عقل پر مبنی اقدام نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایران میں فارن پالیسی کی اسٹریٹجک کونسل کے چیئرمین اور جوہری معاہدے کے نفاذ کے نگران بورڈ آف سپروائزر کے ممبر"کمال خرازی" نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جب کسی معاہدے پر دستخط کرتا ہے تو اس پر پابند رہتا ہے اور اس کے نفاذ پر زور دیتا ہے؛ اس معاملے میں دیگر فریقین نے وعدہ خلافی کی اور اپنے جوہری وعدوں پر عمل نہیں کیا۔

خرازی نے کہا کہ ہم نے ان کے جبر اور غفلت کے دائرے میں نہ آنے پر ڈیڈ لائن طے کی لیکن انہوں نے پھر بھی اپنے وعدوں کو نہیں نبھایا؛ لہذا ہم نے اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 40 سالوں کے اندر اندر اس بات کا مظاہرہ کیا ہے کہ ہماری قومی مفادات اور آزادی اور خودمختاری ہماری ترجحیات میں سرفہرست ہے اور ہم کبھی ان کی غنڈہ گری کے سامنے ہتیھار نہیں ڈالیں گے؛ جوہری معاہدہ محض ایک مثال ہے اور ایسی بھی دوسری صورتیں سامنے آچکی ہیں جو جنگ کا باعث بھی بنی ہیں؛ تو ہم اپنے مفادات کی فراہمی اور قومی خودمختاری اور آزادی کا تحفظ کیلئے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

خرازی نے ایرانی قوم کیخلاف امریکی دباؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے 1500 سے زائد ایرانی کمپنی اور افراد کیخلاف پابندی عائد کی ہے جس سے ہمیں بہت نقصان ہوا ہے؛ لہذا ہمیں اس طرح کی غنڈہ گری کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہنی ہوگی اور اس کا بہترین حل بھی پابندیوں کے اثرات کو بے اثر کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہی پابندیاں کسی دوسرے ملک پر عائد کردی گئی ہوتی اور اس میں پابندیوں کو روکنے کی صلاحیت نہ ہوتی تو مغربی ممالک ضرور جیت جاتے؛ لیکن ہم نے پابندیوں کے سامنے مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ان کو شکست کا سامنا کیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha