ایران اور عراق کی عدالتیں ہی شہید سلیمانی کے قتل کیخلاف مقدمے چلانے کا تعاقب کر رہی ہیں: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ محکمہ خارجہ اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کیجانب سے امریکہ کو غیر قانونی قتلوں کے حوالے سے مذمت کرنے کے مسئلے کا تعاقب کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عراق کی عدالتیں شہید جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کیخلاف مقدمے چلانے کا تعاقب کر رہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز بدھ کو مقدس دفاع میں قانونی اور بین الاقوامی مطالعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی پالیسی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کانفرنس میں تمام سفیروں اور فوجی عہدیداروں کی دعوت اور حتی کہ ان کیجانب سے لیچکر پیش کرنے پر زور دیا۔

ظریف نے کہا کہ اس کانفرنس کے ورچوئل انعقاد کے پیش نظر دیگر وکلاء اور افراد کو مضامین اور لیکچر پیش کرنے کے لئے مدعو کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ خارجہ اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کیجانب سے امریکہ کو غیر قانونی قتلوں کے حوالے سے مذمت کرنے کے مسئلے کا تعاقب کر رہی ہے۔

ظریف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عراق کی عدالتیں شہید جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیو کے قتل کیخلاف مقدمے چلانے کا تعاقب کر رہی ہیں۔

انہوں نے عراقی سپریم جوڈیشل کونسل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزاحمتی فرنٹ کے شہید کمانڈروں کے قتل کے جرم میں گرفتارکرنے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ حکم وزارت خارجہ اور دیگر اداروں کی جانب سے زبردست تعاقب کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر میجر جنرل محمد باقری، ایرانی آرمی کے کمانڈر انچیف جنرل عبدالرحیم موسوی، ایرانی لاؤ انفورسمنٹ فورس کے سربراہ جنرل حسین اشتری اور دیگر اعلی فوجی عہدیدار شریک تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقدس دفاع میں قانونی اور بین الاقوامی مطالعات سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں کاغذات جمع کروانے کی آخری تاریخ 19 جنوری 2021 کے آخر تک ہے جو مندرجہ ویب سائٹ www.paydari.ir پر بھیج سکتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 12 =