ایران اور عراق کی تجارتی لین دین کے حجم کو 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی: نائب ایرانی صدر

تہران، ارنا- سنیئر نائب ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور عراق کا مشترکہ اقتصادی کمیشن دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے نفاذ اور مذاکرات میں تیزی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ایران اور عراق کے درمیان تجارتی لین کے حجم کو 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "اسحاق جہانگیری" نے آج بروز منگل کو عراقی وزیر تجارت اور دونوں ملکوں کے مشترکہ تجارتی کمیشن کے سربراہ کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے مشرق وسطی کی حساس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خطے میں قیام امن اور استحکام لانے سے متعلق اسلامی ممالک بالخصوص ایران اور عراق کے درمیان تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے خطے میں  قیام امن لانے سے متعلق داعش دہشتگرد کیخلاف مقابلہ کرنے کو ایران اور عراق کے درمیان تعاون کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران بدستور عراق میں سیاسی عمل اورعراق کی قومی سالیمت کے تحفظ کی حمایت کرے گا۔

جہانگیری نے کہا کہ جنرل شہید سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کے قتل میں امریکی جرائم کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ عراقی پارلیمنٹ میں عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بل کی منظوری سے علاقے میں مزید امن اور استحکام قائم ہوجائے گا۔

نائب ایرانی صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔

انہوں نے ایران- عراق مشترکہ اقتصادی کمیشن کے چوتھے دور کے اجلاسوں کے آغاز سے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی کمیشن دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے نفاذ اور مذاکرات میں تیزی لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے ایران اور عراق کے وزرائے توانایی اور ایران اور عراق کے مرکزی بینکوں کے سربراہوں کے درمیان حالیہ ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کردیا کہ عراق جلد از جلد ایران پر اپنے قرضوں کو ادا کرے گا۔

نائب ایرانی صدر نے شلمچہ- بصرہ ریلوے لائن کے منصوبے اور دریائے اروند کی ڈریجنگ کو دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے اہم موضوعات میں سے قرار دے دیا، جن کا نفاذ دونوں ملکوں کے عوام کیلئے فائدہ مندہ ہوگا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے لئے ویزا فری سفر کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے اس کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 5 =