ایران طاق کسری کی تاریخی عمارت کی از سر نو تعمیر کرے گا

تہران، ارنا- ایرانی وزیر برائے ثقافتی ورثے، سیاحت اور دستکاری مصنوعات کے امور نے کہا ہے کہ ایران کی تنظیم برائے منصوبہ بندی اور بجٹ کی منظوری سے ہم ساسانیان کے دور سے متعلق اس ثقافتی ورثے کی از سر نو تعمیر کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "علی اصغر مونسان" نے پیر کے روز عراق میں واقع طاق کسری کی عمارت کے دیوار کے ایک حصے کو گرنے سے متعلق ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس تاریخی عمارت کی اہمیت کے پیش نظر، ایران کی تنظیم برائے منصوبہ بندی اور بجٹ کی منظوری سے ہم ساسانیان کے دور سے متعلق اس ثقافتی ورثے کی از سر نو تعمیر کریں گے۔

مونسان نے کہا کہ اس حوالے سے تنظیم برائے منصوبہ بندی اور بجٹ سے باضابطہ مراسلہ بھیجا گیا ہے اور جیسے ہی کریڈٹ حاصل ہوجائے گا، ایرانی ثقافتی ورثے کے ماہرین، اپنے عراقی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر طاق کسری عمارت میں بھیجے جائیں گے اور بحالی کے کاموں کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے طاق کسری کی از سر نو تعمیر کیلئے ضروری مالی رقم سے متعلق کہا کہ موصولہ تصاویر کے مطابق اس عمارت کی بحالی کیلئے تقریبا 600 ہزار ڈالر کی ضرورت ہے جس کی فراہمی ہوتے ہی ایرانی ماہرین، عراق کے دورے پر روانہ ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عراقی سوشل میڈیا پر کچھ کارکنوں نے بغداد میں طاق کسری کی تصاویر شائع کی ہیں اور لکھا ہے کہ 2021 کے آغاز میں اس یادگار عمارت کی چھت کا کچھ حصہ گرگیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ طاق کسری، ایوان کسری یا ایوان مدائن، ساسانی دور حکومت کی سب سے مشہور اور تاریخی عمارت ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کی شب ولادت اس کے 14 کنگورے ٹوٹ گئے۔

مدائن کی فتح کے بعد مسلمانوں نے اسے مسجد کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق امام علیؑ نے بھی یہاں نماز پڑھی ہے۔

طاق کسری عراق کے دار الخلافہ بغداد کے جنوب میں 37 کیلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے شہر "سلمان باک" یا "سلمان پاک" میں واقع ہے جہاں سلمان فارسی کا مزار بھی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 3 =