جنوبی کوریا جلد از جلد ایران کے زر مبادلہ کے وسائل پر عائد پابندیوں کو اٹھالے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے موجودہ صورتحال میں ایران - جنوبی کوریا تعلقات کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کو کورین بینکوں میں ایرانی زرمبادلہ کے وسائل پر عائد پابندی کا ذکر کرتے ہوئے کورین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز پیر کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ "چوی جونک کن" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ظریف نے موجودہ صورتحال میں ایران - جنوبی کوریا تعلقات کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کو کورین بینکوں میں ایرانی زرمبادلہ کے وسائل پر عائد پابندی کا ذکر کرتے ہوئے کورین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان رکاوٹوں کو جلد از جلد دور کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے معیشیت اور صحت کے شعبوں پر اثرات کے پیش نظر فی الحال، دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے پہلی ترجیح ان مالی وسائل تک ہماری رسائی ہے۔

ظریف نے کہا کہ کورین بینکوں کی غیرقانونی کارروائیوں نے عوامی فضا اور کوریا کے بارے میں ایرانی عوام کے رویے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کی شبیہہ کو شدید نقصان پہنچا ہے؛ لہذا، ایرانی پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں نے اس مسئلے میں داخل ہونے کے ان کے قانونی حق پر زور دیتے ہوئے اس مسئلے کی جلد از جلد حل پر زور دیا ہے۔

اس موقع پر جنوبی کوریا کے نائب وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیول، ان مالی وسائل تک ایران کی رسائی کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں پاسداران اسلامی انقلاب کے نیوی اہلکاروں کیجانب سے کورین بحری جہاز کو حراست میں لینے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔

دراین اثنا ظریف نے کہا کہ بحری جہاز کو خلیج فارس کے پانیوں کو آلودہ کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے اور یہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ ہے جس کا عدالتی اور قانونی فریم ورک کے اندر تعاقب کیا جائے گا اور حکومت کو اس رویے میں مداخلت کرنے کا جواز حاصل نہیں ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha