ایران میں سالانہ 2 ارب ڈالر تانبے کے تاروں کی برآمد کی صلاحیت ہے

تہران، ارنا- ایران بجلی سنڈیکیٹ کی وائر اور کیبل ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ملک کیخلاف لگائی گئی بین الاقوامی پابندیوں کی منسوخی کی صورت میں ہم سالانہ 2 ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل تانبے کے تاروں کی برآمد کر سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "علیرضا کلاہی" نے پیر کے روز منعقدہ ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تانبے کی برآمدات کی صورتحال اچھی سطح پر نہیں حالانکہ ترکی کے پاس کسی تانبے کے کان نہ ہونے کے باوجود، وہ سب سے زیادہ تانبے کی برآمد کر رہا ہے۔

کلاہی نے ایران کیخلاف بین الاقوامی پابندیوں و نیز ملک کے اندر ہی بعض پابندیوں کو تانبے کی صنعت میں رونما ہونے والی اس صورتحال کی وجہ قرار دے دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کیخلاف لگائی گئی بین الاقوامی پابندیوں کی منسوخی کی صورت میں ہم سالانہ 2 ارب ڈالر کی مالیت پر مشتمل تانبے کے تاروں کی برآمد کر سکتے ہیں۔

کلاہی نے کہا کہ ایران میں تانبے کیبل کی تیاری میں 5۔2 سے 3 ارب ڈالر کی صلاحیت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی برآمدی منڈی میں 300 بلین ڈالر کی گنجائش ہے اور تخمینہ لگایا گیا ہے کہ صرف عراق کو اگلے 20 سالوں اپنے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لئے 30 ارب سے 40 بلین ڈالر کیبل کی ضرورت ہے۔

کلاہی نے کہا کہ دنیا کے توانائی کی ٹوکری میں بجلی کا حصہ بڑھتا جارہا ہے اور کیبل مارکیٹ میں اضافہ ہوگا؛ یوروپی یونین 2040 تک بجلی کے انفراسٹرکچر میں 1 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جس میں سے 15 فیصد کیبل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹوموٹو انڈسٹری میں تاروں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے اور اب یہ 10 کلوگرام سے بڑھ کر 40 کلوگرام ہوگئی ہے۔

کلاہی نے کہا کہ کیبل کی برآمدات کے شعبے میں ایران کی سب سے بڑی منزلیں افغانستان، ترکمانستان، عمان اور سعودی عرب ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha