ایران کو جوہری معاہدے کی امریکہ واپسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے: قالیباف

تہران، ارنا – ایرانی اسپیکر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدہ ہمارے لئے کوئی مقدس معاہدہ نہیں ہے مگر اسلامی جمہوریہ ایران نے پابندیاں ختم کرنے کی شرائط کے ساتھ اسے قبول کیا ہے، لہذا اس معاہدے میں امریکہ کی واپسی ہمارے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ پابندیوں کی عملی طور پر اٹھانا ہمارے لئے اہم ہے۔

یہ بات "محمد باقر قالیباف" نے اتوار کے روز پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے 1978 میں شہر قم میں پہلوی حکومت کے خلاف تاریخی بغاوت کی برسی کے موقع پر قائد اسلامی انقلاب کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کی شق نمبر 36 اور 37 کے مطابق، ہمیں حق حاصل ہے کہ دوسرے فریق کی خلاف ورزی کی صورت میں اپنے فرائض کی تعمیل کرنے سے انکار کردے لہذا ہم زور کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ جب ایران اپنی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا کہ وہ امریکی صدر کے تمام پابندیوں اور ایگزیکٹو احکامات کو ختم کرے گا۔
قالیباف نے کہا کہ بائیڈن کے دستخط ہمارے لئے ضمانت نہیں ہیں اور اوباما انتظامیہ کی بدعہدی بائیڈن نے ظاہر کیا کہ ہمیں پابندیوں کی قانونی اور کاغذی کارروائی سے خوش نہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے مطابق ، پابندیاں ختم ہوجائیں گی جب ہم اپنا تیل بیچ سکتے ہیں اور اسی آمدنی سے ہم سرکاری بینکاری میکانزم کے ذریعہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں ، اسی طرح ہمارے پروڈیوسر اور کاروبار دنیا میں تجارت کو برقرار رکھتے ہیں ایسی صورت میں ایران جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 8 =