ایران چین اور پاکستان کا سہ فریقی تعاون؛ مواقع اور چیلنجز

اسلام آباد، ارنا -  ایران، چین اور پاکستان کی بین الاقوامی ورچوئل کانفرنس میں شریک ممالک نے  تینوں ممالک کے مابین مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اقوام عالم کی فلاح و بہبود کے لئے ایک دوسرے کے مواقع اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور مشترکہ چیلنجوں خصوصا مداخلت کرنے والے ممالک پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔

ارنا کے مطابق،یہ ورچوئل بین الاقوامی کانفرنس ایران، چین اور پاکستان کا تین فریقی تعاون؛ درپیش مواقع اور راستے' کے عنوان سے اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی ' پاکستان میں ہمارے ملک کے سابق سفیر 'ماشاء اللہ شاکری' ، کچھ پروفیسرز کے علاوہ  بین الاقوامی روابط کے بعض ماہرین اس ویبنار میں شریک تھے۔

انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم سمیت علاقائی تنظیموں میں اسلامی جمہوریہ ایران ، چین اور پاکستان کی رکنیت اور اس سلسلے میں سہ فریقی تعاون کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے  کہا کہ تہران، بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان علاقائی تعاون کے لئے امریکی محاذ آرائی واضح ہے۔

ایرانی مقررین نے ہمارے ملک کے عوام پر خاص طور پر کورونا وائرس کے مشکل حالات میں امریکی پابندیوں سے پیدا ہونے والے تباہ کن اور جابرانہ نتائج پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے ریمدان – گبد کے کوریڈور کے باضابطہ افتتاح کے بعد چابہار اور گوادر بندرگاہوں کے مابین تعمیری تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے اور پاکستان اور چین کے مشترکہ اقتصادی راہداری کو سہ فریقی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اہم سمجھا۔

انہوں نے کہا کہ تہران - بیجنگ تعلقات کو مضبوط بنانا اور دونوں فریقین کے مابین 25 سالہ اسٹریٹجک تعاون کا منصوبہ پاکستان کے لئے خوشخبری ہوگی۔

انہوں نے پاکستان اور چین کے مابین بیلٹ اینڈ روڈ پلان اور سی پیک منصوبے کے خلاف منفی پروپیگنڈے میں کچھ طاقتوں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے انتباہ کیا کہ کچھ طاقتیں ایران ، چین اور پاکستان کے مابین دوطرفہ تعلقات اور سہ فریقی تعاون کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha