ایران اپنی دفاعی پالیسیوں میں کسی بھی طرح مداخلت کا برداشت نہیں کرے گا

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بدستور بین الاقوامی قوانین اور اپنے کیے گئے وعدوں پر قائم رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دفاعی اور فوجی پالیسیوں سے متعلق اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں میں کسی بھی طرح مداخلت کا برداشت نہیں کریں گے۔

"سعید خطیب زادہ" نے خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ بیان میں ایران کیخلاف لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا مسترد کرتے ہوئے ان کو اس کونسل پر سعودی عرب کے سیاسی دباؤ کے نتیجے میں قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ جبکہ خلیج فارس کے ممالک کے درمیان مفاہمت سے توقع کی جاتی تھی کہ علاقائی ممالک، خطی مسائل سے متعلق اپنے موقف پر نظر ثانی کریں اور دشمنی پر مبنی اپنے رویوں کو بدل دیں لیکن خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض اراکین گزشتہ جیسے اپنی ایران فوبیا کی پالیسی پر مصر ہیں۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت کی علاقائی پالیسی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تباہ کن رویوں کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک کی زیادہ تر دولت کا نقصان ہوا اور اس خطے کو مغربی کمپنیوں کے ہتھیاروں کے ڈپو میں تبدیل کردیا گیا؛ جو اس حساس خطے میں مزید غیر ملکی مداخلت کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور سعودی حکومت،  خلیج فارس تعاون کونسل اور اس کی میٹنگوں کو یرغمال بناکر اور اس کے تباہ کن نظریات عائد کرکے خطے میں نفرت اور تشدد کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے خطے کے بعض ممالک کیجانب سے ناجائز صہیونی ریاست سے تعلقات استوار کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے خطے میں غیرملکی عناصر کی مداخلت میں اضافے کا باعث قرار دیا جو علاقائی امن اور استحکام کو خطرے کا شکار کرے گا۔

انہوں نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے اقدامات کی وجہ سے یمن میں لاکھوں نہتے شہریوں کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے وہ الزام تراشی سے اپنے غیر انسانی جرائم کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

خطیب زادہ نے ایران کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے سے متعلق خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جوہری معاہدے کے قوانین کے فریم ورک کے اندر اقدامات اٹھائے ہیں اور ہم دفاعی اور فوجی پالیسیوں سے متعلق اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں میں کسی بھی مداخلت کا برداشت نہیں کریں گے۔

انہوں نے خلیج فارس تعاون کونسل کیجانب سے ایران کیخلاف امریکی معاشی دہشتگردی کی پالیسی کو پیروی کی شدت سے مذمت کی۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ہم تینوں جزیروں ابوموسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین کا لازمی اور ابدی حصہ سمجھتے ہیں اور ان جزیروں سے متعلق کسی بھی دعوے کو اپنے اندرونی معاملات اور علاقائی سرزمین میں مداخلت قرار دے کر اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سارے اقدامات، اپنی قومی خودمختاری اور سالیمت کے تحفظ کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔

ایرانی محکمہ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کا موقف، خطی مسائل کو علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کے ذریعہ حل کرنا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 3 =