ماہانہ 8 سے 9 کلوگرام 20 فیصد افزودہ یورینیم تیار کرتے ہیں: صالحی

تہران، ارنا – ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہماری موجودہ پیداوار ہر گھنٹے میں 20 فیصد افزودہ یورینیم کی 17 سے 20 گرام تک ہے ، اور ہمارے پاس ماہانہ 8 سے 9 کلوگرام تک پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جو قانونی اجازت کی مبنی پر 120 کلوگرام تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بات "علی اکبر صالحی" نے منگل کے روز ایرانی سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کی چہلم تقریب کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے یہ تنظیم اس وقت گہری سرگرمیاں کررہی ہے جس میں ملک کے دو بڑے صنعتی منصوبے تقریبا 10 ارب ڈالر کی لاگت سے بوشہر میں دو ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر بھی شامل ہے۔
صالحی نے ملک میں ریڈیو ایکٹیو دواسازی کے پروڈکشن سینٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سنٹر مغربی ایشیاء میں ریڈیوفرماسٹیکل کے لئے سب سے بڑا مرکز ہوگا  اور یہ مرکز 37 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر قائم کیا گیا تھا اور اس مرکز کے لئے 60 ملین یورو مالیت کا سامان خریدا گیا تھا ، اور ان آلات کو نصب کرکے اور ہم ایشیاء کے ایک بڑے علاقے میں تابکار دوا سازوں کے لئے سب سے بڑا پروڈیوسر بنیں گے۔
 ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران اپنی چند صلاحیتوں کے ساتھ فی الحال 11 ممالک کو تابکار دوائیں برآمد کررہا ہے ، اور یہ ممکن ہے کہ یورپ میں تابکار دوائیں برآمد کی جاسکیں کیونکہ وہ معیار کے مطابق تیار کی جاتی ہیں۔
صالحی نے کہا کہ 20 فیصد افزودہ یورینیم ری ایکٹر کے لئے استعمال ہوتا ہے اور ہمارے پاس گوداموں میں 5 سالوں سے ری ایکٹر کے لئے درکار ایندھن موجود ہے اور 20 فیصد افزودہ یورینیم جو اس وقت تیار کیا جاتا ہے اسے جمع کیا جاتا ہے لہذا تنظیم کی سرگرمیاں رک گئیں اور نہ ہی سست ہوئیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 7 =