ایران میں کورونا ویکسین کی تیاری سے امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے

تہران، ارنا- ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے ملک میں کوورنا ویکسین کی تیاری کو ایک انتہایی قابل قدر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں کورونا ویکسین کی تیاری سے امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔

ان خیالات کا اظہارعلامہ ابراہیم رئیسی نے آج بروز پیر کو عدلیہ کی سپریم کونسل کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ایران کے ایک شہر میں کسی مجرم کو سزائے عمل دینے سے متعلق یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے رد عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مشورہ دیا اور اب میرا سوال یورپی یونین اور یو این ایچ سی آر سے ہے کہ بین الاقوامی قوانین؛ شہید فخری زاداہ اور جنرل سلیمانی کے قتل کے وقت کہاں تھے؛ اورانہوں نے کیوں ان قوانین کی بنیاد پرامریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت نہیں کی؟

رئیسی نے کہا کہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے ہمارا سوال یہ ہے کہ جب بچوں پر یمن میں مکانات مسمار کیے جارہے ہیں اور جب فلسطین میں لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے اور آبادیاں بن رہی ہیں اور لوگ مارے جارہے ہیں؛ وہ بین الاقوامی کہاں ہیں؟ جو ان جرائم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کے لئے استعمال نہیں ہوتے ہیں؟

ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے ایران کیحلاف لگائی گئی پابندیوں کو بے اثر کرنے کی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے تمام کار و باری اور تجارت میں سرگرم افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکمت عملی موثر ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وعدہ نہ نبھانے والوں سے مذاکرات نہیں کریں گے اور دشمن کو یاس کا شکار کرنے کی ہماری سب سے بہترین حکمت عملی اپنی جوان ماہرین اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha