ایران کے ساتھ موثر معلومات کے تبادلے کے خواہاں ہیں

اسلام آباد، ارنا - پاکستانی انسداد منشیات وزیر نے منشیات کی روک تھام اور پیداوار میں افغانستان میں موجودہ غیر ملکی افواج کی ناکامی کو ایران اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مشترکہ تعاون کو مستحکم کرنے کیلئے تہران کیساتھ موثر معلومات کے تبادلے کے خواہاں ہیں۔

یہ بات اعجاز احمد شاہ جو حالیہ میں اس وزارت کےعہدے پر فائز ہوئے ہیں اور اور گذشتہ ڈیڑھ سال تک وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، نے اتوار کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ اور پیداوار میں غیر ملکی افواج کی ناکامی کو ایران اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم باہمی تعاون کی مزید مضبوطی کے لیے موثر تجربات کو شیئر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے بغیر منشیات کے خلاف جنگ میں 100٪ کامیاب نہیں ہو سکتا ہے۔

وزیر منشیات کنٹرول پاکستان نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان ایک مشترکہ خطے میں اور ہمسایہ ممالک ہیں  اور منشیات کی لعنت سے نمٹنے میں زیادہ سے زیادہ کامیاب ہونے کے لئے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون اور  اقدامات کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔

اعجاز احمد شاہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو منشیات کے چیلنج کا شکار ہیں  اور ہم اپنے تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے ایرانی عہدیداروں سے ملاقات کرنے کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب مجھے خوشی ہے کہ پاکستان میں ایران کی انسداد منشیات پولیس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل مجید کریمی  کے ساتھ اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملا ہے۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے منشیات سے نمٹنے کی کوششوں پر جابرانہ اور یکطرفہ امریکی پابندیوں کے اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے اور ہم ان پابندیوں کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔

منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی صفر کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایران اور ہمارا  ملک کا مشترکہ ہمسایہ ہے۔ بے شک  ہم ان کی جغرافیائی صورتحال کو تبدیل نہیں کرسکتے ، لیکن ہمارا مطالبہ اس ملک میں منشیات سے  پاک سرزمین ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی انسداد منشیات کے پولیس چیف مجید کریمی  پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے آج کی صبح پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 9 =