جنرل سلیمانی کا قتل بین الاقوامی کنونشن کیخلاف ورزی ہے: سربین تجزیہ کار

بلغراد، ارنا- سربین تجزیہ کار نے جنرل سلیمانی کی شہادت کی سالگرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سردار سلیمانی کا قتل 1907 کے ہیگ کنونشن اور 1949 میں جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔

ان خیالات کا اظہار سربیا میں انسٹی ٹیوٹ فار یورپی اسٹڈیز کے محقق "صربولیوب پئوویچ" نے ہفتے کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے "کیا کسی سیاسی یا فوجی شخصیات کا قتل بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے" کے سوال کے جواب میں کہا کہ یقین ایسا ہی ہے؛ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی ریپورٹر "ایگنس کلمارڈ" کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب کسی ملک نے"اپنی سرزمین کے دفاع" کے بہانے کسی تیسرے ملک میں کسی دوسرے ملک کے نمائندے پر حملہ کیا ہے۔

سربین تجزیہ کار نے اس بات پر زور دیا کہ جنرل سلیمانی کا قتل 1907 کے ہیگ کنونشن اور 1949 میں جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے عالمی برداری بالخصوص مغربی ملکوں کیجانب سے جنرل سلیمانی کے قتل پر خاموش رہنے کی وجہ سے متعلق کہا کہ اگرچہ یورپی یونین ایران کا اہم تجارتی شراکت دار بن گئی ہے، لیکن ایران کیخلاف یکطرفہ امریکی پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس کو ایران سے معاشی تبادلے کو معطل کرنے پر مجبور کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین براہ راست امریکی پالیسی کے زیر اثر ہے۔

سربین تجزیہ کار نے جنرل سلیمانی کے قتل کے مقصد سے متعلق کہا کہ یہ قتل سردار سلیمانی کی چھوڑی ہوئی عظیم میراث کو ختم کرنے کے مقصد کے ساتھ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں کیجانب سے جنرل سلیمانی کے قتل پر خاموش رہنے سے متعلق بھی کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ایران اور سردار سلیمانی کئی دہائیوں سے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔

سربین تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل، جوہری معاہدے سے علیحدگی اور ایرانی عوام پر سخت پابندیاں عائد کرنے جیسے امریکی اقدامات نے ایران کا امریکہ پر عدم اعتماد بڑھا دیا ہے؛ مجھے یقین ہے کہ امریکہ پر یہ عدم اعتماد پورے مشرق وسطی اور وسطی ایشیاء کو متاثر کرتا رہے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =