ایران میں فلک الافلاک محل کی عالمی ثقافتی ورثے میں رجسٹر ہونے کی تیاریاں

خرم آباد، ارنا- ایران کے جنوب مغربی صوبے لرستان میں واقع فلک الافلاک تاریخی محل کو عالمی ثقافتی ورثے میں رجسٹر ہونے کے اقدمات اٹھائے گئے ہیں اور ہم اسے یونیسکو میں رجسٹر ہونے کیلئے پُر امید ہیں۔

فلک الا افلاک محل یا "شاپورخست" قلعہ اینٹ سے بنائی گئی کی ایک بہت بڑی عمارت ہے جو ساسانیان کے دور میں خرم آباد کے بیج میں واقع قدیم پہاڑیوں پر میں تعمیر کی گئی تھی؛ بہت سے ماہرین اس قلعے کی حیرت انگیز خوبصورتی اور فن تعمیر کی وجہ سے اسے انجینئرنگ کے شاہکاروں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔

چوتھی صدی ہجری میں اس کے اسٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے یہ قلعہ آل بویہ کے زمانے میں حسنویہ اور گنجور کی حکومت کا مرکز بن گیا تھا اور چھٹے صدی ہجری سے خرم آباد کے نئے شہر کی تعمیر کے بعد یہ قلعہ خرم آباد کے نام سے بھی جانا جاتا تھا؛ زمانہ قجر میں فلک الافلاک کا نام اس پر رکھا گیا ہے۔

قلعے کا قدیم مقام تقریبا 120 ہزار مربع میٹر اور پہاڑی کی اونچائی سمیت ملحقہ گلیوں کی سطح سے عمارت کی دیواروں کی اونچائی 40 میٹر ہے؛ بصری دستاویزات کے مطابق ، تقریبا 100 سال پہلے تک موجودہ عمارت کے آس پاس 12 ٹاورز موجود تھے جس کے اثرات اب محل کے شمال مغربی علاقے میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

عمارت کا متوقع رقبہ 5 ہزار 300 مربع میٹر ہے جس میں 8 ٹاورز 2 صحن اور 300 پیراپیٹ موجود ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha