ایران مخالف امریکی پابندیوں کی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کو انسولین تک رسائی سے محروم ہیں

تہران، ارنا - جبکہ امریکہ کا دعوی ہے کہ اس نے ایران پر ادویات کی پابندیاں عائد نہیں کی ہے مگر شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف پابندیاں عائد کرکے خاص طور پر ایرانی مریضوں کو دوائیوں کی فراہمی میں پریشانی پیدا کرنے سے کسی بھی حربے سے باز نہیں آیا ہے۔

ایرانی ذیابیطس ایسوسی ایشن کے سربراہ "اسداللہ رجب" نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ موجودہ صورتحال میں اور پابندیوں کے زیر اثر ، ہمیں درآمدی ینالاگ انسولین کی قلت کا سامنا ہے اور اس سے ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے بہت سارے شکار مریض افراد کئی سالوں سے اپنے بلڈ شوگر پر قابو پانے کے لئے ینالاگ انسولین کا استعمال کررہے ہیں اور اس کمی نے پریشانیوں کا باعث بنا ہے۔ اگر ینالاگ انسولین کی کمی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے تو ذیابیطس کے مریضوں کے علاج اور اس کی دوا کی قسم کو تبدیل کرنے پر سوچنا ضروری ہے۔
گذشتہ مہینہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اعلان کردیا کہ امریکی پابندیاں ایران پر انسولین کی قلت کی بنیادی وجہ ہے۔
واضح رہے کہ ایک ایرانی کمپنی نے حال ہی میں ملک میں لائسنس یافتہ یانالاگ انسولین پروڈکشن لائن قائم کی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں نے اب تک ہزاروں مریضوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور پابندیوں کے سالوں کے دوران بہت سارے مریض محض دوائی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha