صہیونی ریاست نے فلسطینیوں تک کورونا ویکسین کی رسائی میں رکاوٹ بنی ہے

تہران، ارنا- ایک قانونی ماہر نے انکشاف کیا کہ صہیونی ریاست نے فلسطینیوں کو کورونا ویکسین تک رسائی میں رکاوٹیں حائل کی ہیں اور وہ فلسطینی سرزمین پر قبضہ اور فلسطینیوں کے محاصرے کی وجہ سے اس سلسلے میں ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی قانون کی ماہر "حنا عیسی" نے آناتولی نیوز ایجنسی کے نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1949 میں جنیوا کنونشن کا نفاذ، جس میں املاک اور شہریوں کے تحفظ اور آباد کاروں کو تعلیمی، صحت اور ثقافتی خدمات کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے، کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت قابض حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینیوں کو بھی یہی شرائط مہیا کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تا ہم  صہیونی ریاست فلسطینی سرزمین پر قبضہ اور فلسطینیوں کے محاصرے کی وجہ سے اس سلسلے میں ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

لیکن فلسطینی وزیر صحت "می الکیہ" نے فلسطینی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک مقبوضہ ملک ہیں اور قبضہ کاروں نے سرحدوں پر قابو پالیا ہے اور اسرائیلی فریق سے رابطے کا ایک نقطہ ہے جو فریقین کے مابین سیکیورٹی کوآرڈینیشن دوبارہ شروع کرنے کے بعد فعال کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست نے وعدہ دیا ہے کہ وہ کورونا ویکسین تک رسائی کو آسان بنائے گی کیونکہ یہ ان کے مفادات میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست میں اس معاملے کی تحقیقات اور اندراج کی ضرورت ہے اور اب اس مقصد کیلئے کچھ رابطوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ سے اب تک 135 ہزار 365 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں 108 ہزار631 افراد صحتیاب اور 1207 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
6 + 0 =