امریکہ قوموں کا بائیکاٹ کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے

اسلام آباد، ارنا – پاکستان کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے امریکی ایران مخالف پابندیوں کو انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو خود غرضانہ سیاسی فیصلوں کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرنے کی بجائے سیاسی مطالبات سے بالاتر ہو کر انسانیت کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

یہ بات محترمہ خاتون زبیدہ خلال خان نے آج بروز اتوار ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

پاکستانی خاتون سیاستدان نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے اور کثیر الجہتی تعلقات خاص طور پر بارڈر مینجمنٹ ، دفاعی اور معاشی تعاون کے فروغ کیلیے دفاعی پیداوار کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

٭٭ایرانی قوم کی مزاحمت اور خود انحصاری کی تعریف

انہوں نے پابندیوں کے خلاف ایرانی قوم کی مزاحمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ایرانی عوام دوسری قوموں کے لئے خود انحصاری اور مزاحمت کا مظہر ہیں۔

پاکستانی خاتون نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی اور پیشرفت کا عمل پابندیوں کے باوجود جاری ہے اور یہ قوم کے مضبوط ارادے اور مزاحمت کو ظاہر کرتا ہے۔

٭٭امریکی پابندیاں خودغرضانہ ہیں

پاکستانی وزیر نے کرونا کی وبا کی ایسی صورتحال میں ایرانی عوام کے خلاف غیر قانونی پابندیوں اور امریکی معاشی دہشت گردی کے تسلسل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ جب بات انسانیت اور انساندوستانہ اقدام کی ہو تو کسی بھی حکومت کی پہلی اور اہم ترجیح اپنی قوم کی ضروریات کی فراہمی اور فی الحال اپنے شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات کو مہیا کرنا ہے۔

انہوں نے امریکی ایران مخالف پابندیوں کو انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو خود غرضانہ سیاسی فیصلوں کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرنے کی بجائے سیاسی مطالبات سے بالاتر ہو کر انسانیت کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

٭٭ایران اور پاکستان کے دفاعی تعلقات کی ترقی کے لئے صلاحیتیں

زبیدہ جلال خان نے اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے مابین دفاعی تعاون کی وسعت کے بارے میں کہا کہ دونوں ممالک انسانی وسائل کی ترقی اور دیگر تعلیمی پروگراموں کے سلسلے میں روایتی طور رابطے میں ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کی بہت ساری صلاحیتیں موجود ہیں اور ہم مستقبل قریب میں انسانی وسائل کی ترقی کو مزید وسعت سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سرکاری کوریڈورز کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha