ٹرمپ نے افغان امن مذاکرات سے پروپیگنڈا کا غلط استعمال کیا: ظریف

کابل، ارنا –ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دوحہ میں ہونے والے افغان امن مذاکرات کو غلط استعمال کیا اور افغانستان کے عوام مستقبل میں اس بڑے دھچکے اور امریکی حکومت کے رویے کے نتائج کو دیکھیں گے۔

یہ بات محمد جواد ظریف نے منگل کے روز افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کے صحافی کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نےافغان امن عمل میں ایران کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران افغانستان کی حکومت اور عوام کی حمایت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تمام افغان گروہوں کو اس ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے اور یہ افغانستان کے بارے میں ایرانی حکومت اور حکومت کی پالیسی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بن کانفرنس میں افغانستان میں جمہوری نظام کے قیام کیلیے شہید جنرل سلیمانی کا کردار مجھ سے کم نہیں ، اگر زیادہ نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہاکہ شہید سلیمانی کے قتل نے خطے سے امریکہ کے انخلا کو تیز کردیا اور عراق میں عراقی پارلیمنٹ نے اس ملک سے امریکی افواج کے انخلا کی ضرورت پر ووٹ دیا۔

ظریف نےافغانستان سے غیرملکی افواج کے نکلنے کے حوالے سے  کہا کہ ہمین یقین ہیں کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کو ذمہ دارانہ  اور افغان عوام کی مرضی کے مطابق ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی موجودگی نے اس ملک میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے لوگوں کے مختلف

ایرانی وزیر نے  کہا کہ ایران افغانستان کی سرکاری حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انہوں نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ایران کے مؤقف کا ذکر کرتے ہو‏ئے کہا کہ "ہمارا موقف واضح ہے ، ایران کا موقف یہ ہے کہ افغانستان کے عوام کو طالبان کے ساتھ مل کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا چاہئے۔

طالبان کے ذریعہ مزار شریف میں ایرانی سفارتخانے کے عملے کی شہادت کے بارے میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے طالبان کو معاف نہیں کیا ہےاور ہم اس واقعے کو نہیں بھولیں گے لیکن ان کا بدلہ نہیں لیں گے۔ یہ واقعہ ایک درد ہے اور ہم نے اسے افغان عوام کی خاطر برداشت کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے دوحہ کے امن مذاکرات میں امریکی قیادت کے احتجاج کے لیے شرکت نہیں کی۔

ظریف نے کہا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر کے افغان حکومت کی موجودگی کے بغیر ہی طالبان سے مذاکرات کیے۔ امریکہ کو افغانوں کے بجائے ایک افغان گروپ کے ساتھ مذاکرات کیا جبکہ امریکہ افغانوں کے درمیان  باہمی بات چیت میں آسانی پیدا کرنا چاہئے۔

ظریف نے ایران میں افغان پناہ گزینوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی سائنسی مراکز میں 480 ہزار طالب علم اور 23 ہزار افغان طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha