تین یورپی ممالک نے اپنے جوہری وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے

تہران، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے 2014 سے 2019 کے درمیان ایران اور یورپ کے مابین تجارتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین یورپی ممبر ممالک نے اپنے جوہری وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بات ظریف نے اپنے سرکاری ٹویٹر پیج پر ایک پیغام پوسٹ کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے جوہری معاہدے کے باقی ممبران کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں کئی امور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تین یورپی ممالک نے اپنی جوہری ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے ۔

اس نشست میں جو گزشتہ روز 21 دسمبر کو منعقد ہوئی، ایران، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ شریک تھےجس میں ایرانی وزیر خارجہ کچھ اہم امور کا ذکر کیا 1۔ جوہری معاہدے کے بچانے کے لئے تین یورپی ممبر ممالک کے لئے آخری تاریخ 2. 2019-2014 میں ایران اور یورپی یونین کے مابین تجارتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تین یورپی ممالک نے اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

3۔ تین یورپی ممالک نے امریکہ کے ساتھ ایرانیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ظریف نے لکھا کہ جرمنی ، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے ایک مقررہ مدت کے اندر اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنے کے باوجود جوہری معاہدہ کا ٹائم ٹیبل معاہدے سے الگ نہیں ہے اور اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت  کرنے کا امکان نہیں ہے۔ ہمارے خطے میں بحرانوں اور اسلحے کی جڑ بنیادی طور پر امریکہ اور تین یورپی ممالک ہیں۔

ہمارے وزیر خارجہ نے مزید کہاکہ تمام فریقین  کو جوہری معاہدے میں واپس جانا چاہئے او جب امریکہ اور تینوں یورپی ممالک اپنے فرائض کو پورا کریں تو ، ایران فوری طور پر اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عمل کرے گا لیکن ہمیں پابندیوں کی منسوخی کو محسوس کرنا ہوگا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha