جوہری معاہدے کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات؛ مستقبل کی طرف دیکھنے کی ضرورت

تہران، ارنا- ایران جوہری معاہدے کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس کا اج بروز پیر کو ایک ایسے وقت میں انعقاد کیا گیا جب امریکہ میں جو بائیڈن کے بر سر کار آنے سے اس معاہدے کی بحالی کی امید بڑھ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس اجلاس کے اختتام میں جاری بیان میں وزرائے خارجہ نے مذاکرات کے تسلسل جاری رکھنے، ساری فریقین کیجانب سے اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے، جوہری معاہدے میں امریکہ کی از سر نو شمولیت کا امکان اور مثبت دریچہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لینے پر زور دیا۔

یورپی یونین کے اعلی نمائندے" جوسپ بورل" نے ایک ٹوئٹر پیغام میں اس اجلاس سے متعلق کہا کہ جوہری معاہدے کے فریقین نے آج اس معاہدے کے تحفظ پر اپنی کوششوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس معاہدے کے نفاذ کیلئے درپیش چیلنجز بشمول جوہری ہتیھاروں کے عدم پھیلاؤ اور ایران کیخلاف عائد پابندیوں کو اٹھانے کا تعاقب کرنے اور جائز لینے سے اتفاق کیا۔

بورل نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ہم نے ایران جوہری معاہدے میں امریکہ کی از سر نو شمولیت و نیز مثبت نقطہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لینے پر زور دیا۔

جرمن وزیر خارجہ "ہایکو ماس" نے بھی کہا کہ ہم جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے اور ایران کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کی حساس صورتحال میں اس معاہدے کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدہ؛ سب سے بہترین آپشن ہے اور سارے فریقین کو اس معاہدے کے تحفظ کی کوشش کرنی ہوگی۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے اور اس کو تاخیر کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے اس بات کا دعوی کیا کہ ایران جوہری معاہدے کا تحفظ حالیہ سالوں کے دوران یورپ کی انتھک کوششوں کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔

تا ہم اگر ہم حالیہ سالوں کے واقعات پر مختصر نظر رکھیں تو ہمیں پتہ ہوگا کہ جوہری معاہدے کے تحفظ پر یورپ کی انتھک کوششوں سے متعلق جرمن وزیر خارجہ کا دعوی درست نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حالیہ سالوں کے دوران، ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور اس معاہدے کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکانے سمیت، یورپی فریقین کیجانب سے اپنے کیے گئے وعدوں بشمول ایس پی وی اور انسٹیکس مالیاتی نظام پر پوری طرح عمل نہ کرنے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران نے اس معاہدے کے تحفظ کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے کے معاشی ثمرات سے مستفید نہ ہونے کے باوجود پوری ذمہ داری سے اس معاہدے کے تحفظ کی کوشش کی اور حتی کہ اپنے کیے گئے وعدوں میں کمی لانے کے عمل پر اس طرح اقدام اٹھایا جو اس معاہدے کی تباہی کا باعث نہ بنے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 2 =