کینیڈا ایران کو ادویات نہ پہنچانے کیلیے وائٹ ہاؤس کا سب سے بڑا معاون رہا ہے

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حالیہ برسوں میں ایرانی عوام کو دوائیوں کی فراہمی کے روکنے میں کینیڈا کی حکومت کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا  اس شعبے میں وائٹ ہاؤس کا سب سے معاون رہا ہے.

یہ بات سعید خطیب زادہ نے آج بروز پیر صحافیوں کے ساتھ ایک ورچوئل پریس کانفرنس کے موقع پر کہی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں کینیڈا نے ایران میں ادویات نہ پہنچانے کے لیے وا‏ئٹ ہاوس کی سب سے بڑی پشت پناہی کی ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ میں کینیڈا کے وزیر خارجہ کو سفارتی رویے اور اپنی حدود کو جاننے کے لئے سفارش کرتا ہوں۔

انہوں نے کینیڈا کی حکومت اور وزیرخارجہ کو خبردار کیا کہ انہیں اپنے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے کیونکہ وہ وائٹ ​​ہاؤس کی حکومت کے ساتھ مل کر ایرانی قوم کو ادویات کی فراہمی کے روکنے کے لئے سب سے زیادہ معاونت کر رہے ہیں۔

خطیب زادہ نے امریکہ کی واپسی کی شرائط کے بارے میں کچھ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ  امریکہ قرارداد 2231 کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سراسر خلاف ورزی کر رہا ہے اور اسے جوہری معاہدے کی  اپنی ذمہ داریوںمیں واپس آنا ہوگا اگر دوسرا فریق اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ہم اپنے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی تعاون بڑھانے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

ایرانی ترجمان نے جوہری معاہدے کے مستقبل کے بارے میں علاقائی ممالک کی تخریب کاری کے بارے میں کہاکہ ایران 15 ممالک کا ہمسایہ ہے۔ خطی ممالک سبھی ایران کے دوست ہیں اور سعودی عرب کے علاوہ ان کے ساتھ ہمارے بہت قریبی تعلقات ہیں۔

یورپی پارلیمنٹ کی ایران مخالف قرارداد کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں خطیب زادہ نے کہاکہ ایسے یکطرفہ ، بوسیدہ اور بیانات کی کو‏ئی حیثیت نہیں ہے اور نہ قابل قبول ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha