چابہار پورٹ مشرق وسطی تک رسائی پر پاکستان کیلئے ایک اہم گیٹ وے ہے: پاکستانی سفیر

چابہار، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ چابہار پورٹ ایک اسٹریٹجک مقام کی حیثیت سے مشرق وسطی کے ممالک تک رسائی پر پاکستانی کیلئے ایک اہم گیٹ وے ہے۔

ان خیالات کا اظہار "رحیم حیات قریشی" نے اتوار کے روز چابہار فری زون اتھارٹی کے ڈائریکٹر مینجنگ کیساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ آج کی دنیا میں ممالک نہیں بلکہ علاقے ترقی اور توسیع کا تجربہ کر رہے ہیں۔

قریشی نے کہا کہ ہم ایران سے مذہبی، ثقافتی، معاشرتی اور اقتصادی مشترکات کے تناظر میں اپنے کیے گئے تاریخی وعدوں پر قائم ہیں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ انہوں نے ریمدان کے سرحدی بازار کے افتتاح اور چابہار پورٹ کی صلاحیتوں سے واقف ہونے کیلئے اسی علاقے کا دورہ کیا ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے اچھے مواقع پر خوش ہیں۔

انہوں نے ایران سے تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم چابہار پورٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسبی رکھتے ہیں اور اس حوالے سے نجی شعبے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانی ہوگی۔

اس موقع پر چابہار فری زون اتھارٹی کے سربراہ نے ریمدان سرحدی بازار کے ذریعے چابہار اور گوار بندرگاہوں میں موجود صلاحیتوں کو باہمی اقتصادی تعلقات کے فروغ کی راہ میں فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

عبدالرحیم کردی نے ریمدان سرحدی بازار کے افتتاح کو سرحدوں میں غیرقانونی سرگرمیوں کے خاتمے کا نیا باب قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہت ساری ضروری مصنوعات کو سستے طریقے سے چابہار میں فراہم کیا جا سکتا ہے اور اب اس علاقے میں بہت سارے پاکستانی سرمایہ کار سرگرم عمل ہیں۔

چابہار فری زون اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم گوادر پورٹ میں بجلی اور توانائی کی فراہمی پر اچھے اور تعمیری تعاون پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے چابہار پورٹ کے منصوبوں پر پاکستانی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

کردی نے کہا کہ پاکستان کیجانب سے شرایط کی فراہمی کی صورت میں ہم مشترکہ صنعتی علاقے کا قیام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری و نیز گوادر اور چابہار بندرگاہوں کے درمیان تعاون سے علاقے میں مزید ترقی اور خوشحالی آئے گی۔

چابہار فری زون اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ چین بھی ریمدان سرحد کے ذریعے یورپ کے مشرق سے منسلک ہوسکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 5 =