مغربی دنیا کو انسانی حقوق کے خلاف اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا

تہران، ارنا - ایرانی عدلیہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ مغربی دنیا کو انسانی حقوق کے خلاف اپنے جرائم کا جواب دینا ہوگا.

یہ بات علی باقری کنی نے آج بروز جمعرات افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کیجانب سے انصاف کی کرسی پر بیٹھنے اور دوسروں پر لزامات عائد کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے اور انہیں ایک ملزم کی حیثیت سے علاقائی اقوام بالخصوص افغانستان اور عراق کے لوگوں کے حقوق کی پامالی کا جوابدہ ہونا ہوگا۔

باقری کنی نے کہا کہ جرمنی کو ذمہ دارانہ طور پر امریکی ڈرون کے حملوں میں اور افغانستان اور عراق کے شہریوں کے قتل میں جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس کے کردار کی وضاحت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی قوموں کے لیے مغربی ممالک کا تحفہ قتل و بدامنی ہے۔ یا دہشتگردوں کے عناصر کے ذریعے یا براہ راست طور پر۔

اگر مغربی ممالک افغانستان میں ٹینکس بھیجنے کے بجائے ٹریکٹر افغان لوگوں کو فروخت کرتے تھے تو ہم 20 سال بعد ایک محفوظ اور خوشحال افغانستان دیکھتے تھے اور در حقیقت افغانستان کی سلامتی اور لوگوں کے معاشی مسائل دونوں ہی حل ہوجاتے تھے لیکن وہ  افغانستان میں دہشت گردی ، عدم تحفظ اور معاشی پسماندگی کے ساتھ اپنے مفادات کو پورا کرنا چاہتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مغربی ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیانت دار ہیں تو وہ صرف یورپ میں مقیم دہشت گردوں کے لئے انسٹیکس میکانزم پر عمل درآمد کریں۔ مغربی ممالک نے اپنے اختلافات کو چھپانے اور خطی قوموں کے مابین تنازعات کو اجاگر کرنے کیلیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

باقری کنی نے ایران اور افغانستان کے مابین تعلقات اور مشترکات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک ایران اور افغانستان کی دونوں اقوام کے درمیان کچھ اختلافات کو تنازعہ اور پھر بحران میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس تنازعہ کے سائے میں اپنے ناجائز مفادات کو حاصل کریں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha