ایران کی جوہری دھماکہ خیز تجربات کیلیے امریکی عزم پر تشویش

لندن، ارنا - ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں ہمارے ملک کے سفیر اور مستقل نمائندے نے جوہری دھماکے کے ٹیسٹ کرنے کے لیے امریکی ارادے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی سے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو مجروح کیا جاتا ہے۔

یہ بات کاظم غریب آبادی نے منگل کے روز جامع جوہری تجربہ سے متعلق معاہدہ ( سی ٹی بی ٹی ) ابتدائی کمیشن کے 55 ویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے تمام جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی ضرورت کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کے دیرینہ اور اصولی موقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران مکمل تخفیف اسلحہ کے مقصد کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ (این پی ٹی) کے مقاصد کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں اور دیگر جوہری دھماکہ خیز تجربات کو روکنا، ان ہتھیاروں کی پیداوار کا خاتمہ اور ایسے ہتھیاروں کے معیار کو بہتر بنانا جوہری تخفیف اسلحے کا پہلا ضروری اقدام ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ اس معاہدے کی تصدیق سے دو دہائی گزرنے کے باوجود اس سمجھوتے کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے تمام جوہری ہتھیاروں والی حکومتوں کو تخفیف اسلحے کے معاہدے پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

انہوں نے تخفیق اسلحے اور عدم پھیلاؤ کے  معاہدوں کے بارے میں امریکہ کے تباہ کن انداز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینئر امریکی عہدیداروں کی جانب سے جوہری دھماکے کے تجربات کے امکانات کے بارے میں اطلاعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

غریب آبادی نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے ذریعہ اس طرح کے جوہری تجربے کی تیاری کے لئے 10 ملین ڈالر کے بجٹ کی منظوری پر بھی شدید تشویش کا اظہار کر کے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس شعبے میں اپنے وعدوں پر عمل کرے۔

ہمارے ملک کے مستقل نمائندے نے جامع جوہری تجربہ سے متعلق (سی ٹی بی ٹ)معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر ریاض کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سعودی عرب سے اس معاہدے پر جلد سے جلد دستخط کرنے کی اپیل کی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha