کورونا ویکسین کی رقم کی منتقلی کیلئے بینکوں کو امریکہ سے خصوصی لائسنس کی ضرورت ہے

تہران، ارنا- ایرانی اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ کیجانب سے یورپ کے مختلف بینکوں کیخلاف دباؤ کی وجہ سے ان کو ایران سے کام کرنے سے خوف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورونا ویکسین کے استعمال کی واضح نوعیت کے باوجود بھی اگرامریکہ کے ذریعے خصوصی لائسنس جاری کیا گیا ہے تو بینک رقم قبول کرنے پر راضی ہوجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار "عبدالناصر ہمتی" نے منگل کے روز کوورنا ویکسین کی خرید کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ان سے پوچھا گیا ہے کہ ایک طرف امریکہ اور کچھ ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ کورونا ویکسین خریدنے کی اجازت دی گئی ہے اور اسے خریدنے میں کوئی دقت نہیں ہے؛ اور دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے ہمیں ویکسین کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے؛ اب کورونا ویکسین کی رقم کی ادائیگی میں کیا پریشانی ہے؟

ایرانی اسٹیٹ بینک کے سربراہ نے جواب میں کہا کہ بنیادی سامان، ادویات اور طبی سامان کی خریداری کسی بھی طرح سے پابندیوں کے تابع نہیں ہونی چاہئے اور اس کی خرید کیلئے کسی بھی لائسنس کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یقینا، ایران کیخلاف امریکہ کی تمام پابندیاں بین الاقوامی قوانین کیخلاف ورزی ہیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ یا دوسرے لفظوں میں زیادہ سے زیادہ جبر اور یکطرفہ پن کی پالیسی اپناتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کر چکی ہے جن میں سے ایک ایرانی مالیاتی نظام اور تمام ایرانی بینکوں پر عائد پابندی ہے۔

 ہمتی نے مزید کہا کہ ایران کے تمام بینکوں اور مرکزی بینک سمیت ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کیخلاف امریکی پابندیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایرانی قوم کیخلاف دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کیجانب سے یورپ کے مختلف بینکوں کیخلاف دباؤ کی وجہ سے ان کو ایران سے کام کرنے سے خوف ہے اور کورونا ویکسین کے استعمال کی واضح نوعیت کے باوجود بھی اگرامریکہ کے ذریعے خصوصی لائسنس جاری کیا گیا ہے تو بینک رقم قبول کرنے پر راضی ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم کوورنا ویکسین کی خریداری کیلئے کوئی اور حل نکالتے ہیں اور عالمی ادارہ صحت کی منظورہ کردہ ویکسین کو دوسرے ممالک سے خریداری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمتی نے کہا کہ ٹرمپ نے اسی طرح کی پالیسی اپناتے ہوئے ایرانی قوم کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے سے ہمارے عوام کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کی کوشش کی تا ہم ان کی پالیسی کو بُری طرح شکست کا سامنا ہوا اور وہ صرف عوام کے نظروں میں گر گئے۔

 واضح رہے کہ اگرچہ امریکہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ بشردوستانہ مصنوعات جیسے ادویات اور طبی سازوسامان کو پابندیوں سے استثنی دی ہے جو کہ صحیح نہیں ہے اور حتی اگراس کا یہ دعوی بھی صحیح ہو تو  ایران مخالف امریکی پابندیوں سے عالمی بینک کی خوف کی وجہ سے ایران کو ادویات کی فراہمی خاص طور میستھ نیا گریوس کا شکار بیماروں کی ادویات کی فراہمی کیلئے بہت سارے مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکہ نے یہ دعوی کیا ہے کہ ادویات اورخوراک کے شعبے میں ایران پر پابندیاں نہیں لگائی گئی ہیں جبکہ اس نے عملی طور پر تمام لین دین کے طریقوں کوبند کیا ہے اور یہ عالمی عدالت انصاف کی رائے کیخلاف ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha