ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے ایرانی صدر کی پریس کانفرنس کے 12 اہم عنوانات

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی مسائل سے متعلق ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دے دیا۔

ایرانی صدر کے بیانات کے 12 اہم عنوانات شرح ذیل ہیں؛

1- اگر جوہری معاہدے کے سارے فریقین اپنے کیے گئے وعدوں کو نبھائیں تو ایران بھی اپنے وعدوں کا بھر پوز نفاذ کرے گا؛ اگر امریکہ اپنے غلطیوں کا ازالہ کرے اور بائیڈن حکومت بھی 2017 کی صورتحال میں واپس آئے تو ہم بھی اپنے وعدوں کو نبھائیں گے۔

2-  انہوں نے ایران اور ترکی کے تعلقات و نیز آذربائیجان کے دورے پر صدر اردوغان کیجانب سے شاعری پڑھ کر سنانے سے متعلق کہا کہ ان 7 سالوں کے دوران صدر اردوغان کی جان پہچان کی بنا پر یہ بہت دور کی بات ہے کہ ان کو ایرانی قوم یا کہ ملکی سالیمت کیخلاف توہین کرنے کا ارادہ تھا؛  البتہ احتجاج کرنے والوں کا حق فطری ہے اور ان کو اپنی حب الوطنی سے متعلق میں اپنی حساسیت کا مظاہرہ کرنے کا حق ہے۔

3- انہوں نے "روح اللہ زم" کی سزائے موت کی وجہ سے ایران اور یورپ کے تعلقات پر پڑنے والے اثرات سے متعلق کہا کہ وہ (یورپ) آزادانہ اظہار رائے کرتے ہیں اور ہم اپنے قواعد کے مطابق کام کریں گے اور مجھے نہیں لگتا کہ اس سے یورپ کیساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔

4-  ایران میزائل پروگرام اور علاقائی مسائل کا جوہری مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان میں مذاکرات کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

5-  ہمارے خلاف پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہے بلکہ ہمارے خلاف معاشی جنگ ہے اور دشمن نے اپنے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لایا ہے تا کہ ایرانی تیل کی فروخت میں رکاوٹ حائل کرے؛ میرے خیال میں معاشی جنگ ختم ہونے والا ہے اور اس کا تسلسل بھی نا ممکن ہے۔

6-  اگلے سال، ایران روزانہ 2.3 ملین بیرل تیل کی پیداوار اور فروخت کرے گا اور ہم نے اس کی بنیاد پر اگلے سال کی بجٹ کا منصوبہ بنایا ہے؛ لہذا پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم اسی رقم کی پیداوار اور فروخت کریں گے۔

7-  اگر گروپ1+5 کے اراکین اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل کریں تو ہم بھی اپنے وعدوں پر پورا اتریں گے؛ یہ سچ ہے کہ  ہمارے مختلف ممالک سے مطالبات ہیں اور امریکہ سے ہمارے مطالبات دوسرے ممالک سے زیادہ ہیں۔

8-  پڑوسی ملکوں سمیت یورپی اور مغربی ممالک سے اپنے تعلقات کی توسیع میں دلچسبی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

9-  2010 میں ملک میں تیل آمدنی کی شرح 119 ارب ڈالر تھی جس میں انتہائی کمی ہو کر گزشتہ سال کے دوران 19 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تا ہم ایرانی قوم کو بنیادی مصنوعات کی فراہمی پر مشکلات کا سامنا نہیں ہوا۔

10-  ایرانی سائنسدان شہید فخری زادہ کے قتل سے ناجائز صہیونی ریاست کا اصل مقصد خطے میں کشیدگی اور جنگ پیدا کرنے کا ہے؛ ہم مناسب وقت اور جگہ پر فخری زادہ کے خون کا بدلہ لیں گے۔

11-  کورونا وبا کیخلاف لڑنے کیلئے بہت جلد ویکسین لگانے کے کام کا آغاز کریں گے؛ چاہے وہ ملک میں تیار ہوجائے یا کہ دوسرے ملکوں میں تیارکردہ ویکسین کا تیار کرے استعمال کیا جائے۔

12-  مجھے امید ہے کہ جون مہینے کے دوران منعقد ہونے والے صدراتی انتخابات میں تمام گروہ اور جماعتیں  بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha