ملک کیخلاف پابندیوں کی منسوخی کو تاخیر کرنے کا شکار نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکلت نے جوہری معاہدے کی تباہی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکام کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاہدے کے سارے فریقین اپنے کیے گئے وعدوں کو نبھائیں تو ہم بھی اپنے جوہری وعدوں میں قائم رہیں گے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز پیر کو ملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ اور میڈیا والوں سے ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایران کے موقف سے متعلق وضاحتیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کیخلاف عائد پابندیوں کی منسوخی کو حتی ایک منٹ زیادہ تاخیر کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

صدر روحانی نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے نے ٹرمپ کیخلاف کھڑے ہوکر ان کو تین دفعہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شکست کا سامنا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس غیر اہم باتوں پر توجہ دینے کا کوئی ٹائم نہیں ہے اور ہم موجودہ حکومت کے آخری دم تک عوام کی خدمت میں حاضر ہیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ گزشتہ صدی کے انتہائی مشکل حالات میں ملک چلانے کی ذمہ داری اسی حکومت پر عائد کی گئی ہے اور بیک وقت ملک کیخلاف معاشی جنگ اور کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے ہمارے عوام بہت مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہیں؛ لہذا ہمارے پاس غیر اہم باتوں پر توجہ دینے کا کوئی ٹائم نہیں ہے اور بر سرکار حکومت کے آخری دم تک ایرانی قوم کی خدمت کریں گے۔

انہوں نے سات سالوں سے زائد ملک کی صدرات کا عہدہ سنبھالنے پر تبصرہ کرتے ہوئے اس مدت کو دوحصوں بشمول ملک کیخلاف مسلط کردہ معاشی جنگ سے قبل اور بعد میں تقسیم کیا۔

صدر روحانی نے کہا کہ جنگ سے پہلے کی معاشی مدت میں، ہم نے آٹھ سالہ جنگ کے بعد کی سب سے مشکل صورتحال اور جمود کی حالت میں حکومت کا اقتدار سنبھال لیا ایک ایسے وقت میں جب ملک کی معاشی نمو منفی 7.7 تھی اور افراط زر 30 فیصد سے زیادہ تھا؛ آٹھ سالہ جنگ کے بعد جمود کی حالیت میں کسی حکومت کا آغاز بے مثال ہے۔

صدر روحانی نے کہا کہ گیارہویں حکومت کے دوران تیل کی سالانہ آمدنی کی شرح 100 ارب ڈالر تھی حالانکہ موجودہ حکومت کے دوران اور 2014، 2015، 2016 اور 2017 کے سالوں کے دوران ملک میں تیل آمدنی کی اوسط مالی شرح 52 ارب ڈالر تھی۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2014 میں تیل کی کم آمدنی تھی اور کچھ مہینوں میں تیل کی ایک بیرل کی قیمت 30 ڈالر سے نیچے آگئی؛ لیکن اسی وقت سات سال کیلئے مہنگائی کو کم کرنے کے معاملات میں 2014، 2015 اور 2016 کے سالوں بہترین حالات تھے اور ان تین سالوں میں اوسط افراط زر تقریبا 11 فیصد تک پہنچ گیا؛ پچھلے 50 سالوں میں یہ اعداد و شمار بے مثال تھا اور ملک میں اوسط افراط زر مسلسل تین سالوں میں تقریبا 11 فیصد تھا۔

صدر روحانی نے کہا کہ ایران نے 2015 میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ معاشی نمو حاصل کی اور ہم نے ان سات سالوں کے دوران، بہت سارے شعبوں میں قوم کو دیے گئے وعدوں کو پورا کیا جن میں انصاف، دنیا سے تعمیری تعاون اور قوم کیخلاف عائد پابندیوں کی منسوخی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے جوہری حق کو ایرانی قوم کے قانونی حق کے طور پر قائم کیا؛ ہماری جوہری سرگرمی قانونی تھی لیکن 2016 کے بعد سے ہماری جوہری سرگرمی قانونی ہوگئی؛ اس وقت تک، انہوں نے سلامتی کونسل کے ضوابط کے دائرہ کار میں ہماری سرگرمیوں کو غیر قانونی سمجھا تھا لیکن ہم نے ایرانی عوام کے لئے اس جوہری حق کو قانونی حیثیت دی اور ملک کو پی ایم ڈی اور آئی اے ای اے کے مشکل حالات سے آزاد کیا اور اس عرصے کے دوران جو اقدامات ہم نے کیے وہ قابل قبول تھے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران ہم نے گندم، چینی اور چاول کی پیداوار میں خودکفیل ہوگئے؛ گیس، پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار میں بھی خودکفیل ہوگئے جو پہلے ان کو درآمد کرتے تھے۔

صدر روحانی نے کہا کہ گیارہویں اور بارہویں حکومت کے دوران پہلی بار کیلئے ملک میں میٹھی گیس کی پیداوار یومیہ ایک ارب مکعب میٹر تک پہنچ گئی، یعنی ہم نے اسے 600 ملین مکعب میٹر سے بڑھا کر ایک ارب کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم گیس اور تیل کے مشترکہ شعبوں میں اہم پیشرفت کرنے میں کامیاب رہے ہیں؛ مشترکہ گیس فیلڈ میں ہم اپنے شراکت دار یعنی قطر سے گیس کی تیاری میں آگے ہیں اور عراق کیساتھ مشترکہ آئل فیلڈ میں، روزانہ 70 ہزار بیرل کی پیداوار میں اضافہ ہوکر یومیہ 400 ہزار بیرل کی پیداور تک پہنچ گئی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 9 =