بائیڈن کا منصوبہ ایران جوہری معاہدے میں جلد از جلد شمولیت ہے: امریکی سیاسی تجزیہ کار

نیویارک، ارنا- ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے پروفیسر اور سنئیر سیاسی تجزیہ کار نے کہا ہے کہ امریکی نو منتخب صدر کے موقف کے پیش نظر وہ پہلے مرحلے میں ایران جوہری معاہدے میں از سر نو شمولیت اور اس کا نفاذ کے خواہاں ہیں اور پھر تہران سے مذاکرات کی منصوبہ بندی کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار "جیم والش" نے اتوار کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں کمی اور بائیڈن کیجانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔

والش نے کہا کہ میرے خیال میں امریکی نو منتخب صدر ایرانی تیل اور بینکوں کیخلاف عائد پابندیوں ونیز سیاسی اور انسان دوستانہ مسائل سے متعلق پابندیوں کی منسوخ کر سکتے ہیں۔

امریکی سیاسی تجزیہ کار جو "ایران جوہری منصوبہ؛ وجوہات، اثرات اور آپشنز" کے رائٹرز بھی ہیں، نے کہا ہے کہ حتی اگر امریکی کانگرس بھی ایران کیخلاف پابندیوں کا نفاذ کرے تو اسی حالت میں بھی امریکی صدر ان پابندیوں کی منسوخ کر سکتے ہیں۔

والش نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق جرمن وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات کے سلسلے میں کہا کہ اس طرح موقف اپنانے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی ملکوں کے موقف بہت سے مختلف ہیں لیکن میرا عقیدہ ہے کہ مجموعی طور پر اس طرح کے موقف اپنانے کی زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہئے۔

والش نے کہا کہ اب واضح موقف یہ ہے کہ یورپی ممالک، چین، روس اور ایران جوہری معاہدے پر قائم ہیں اور اس کے تحفظ کی کوشش کر رہے ہیں؛ جوہری معاہدے میں از سر نو شمولیت کیلئے بھی بائیڈن کا پیغام واضح ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 0 =