امید ہے کہ بائیڈن کی حکومت ایران کیخلاف عائد پابندیاں کا خاتمہ کرےگی

تہران، ارنا – ایران میں تعینات فرانس کے سابق سفیر نے کہا ہے کہ فرانس میں سابق فرانسیسی سفیر (2001-2005) مجھے امید ہے کہ جو بائیڈن کے پہلے فیصلوں میں سے ایک پابندیاں ختم کرنا خاص طور پر ایران کو تمام ادویات اور طبی سامان تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرنا ہوئے۔

یہ بات فرانسوا لینکونو نے ارنا کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

پابندیاں ختم کرنے کے لیے امریکی نئی انتظامیہ کا نیا اقدام بہت تیزی اور غیر مشروط طور پر کیا جاسکتا ہے ، جس سے اگلے اچھے اقدامات کی راہ ہموار ہوگی۔

ایران میں سابق فرانسیسی سفیر نے بھی جوہری معاہدے کے بارے میں یوروپی موقف کے بارے میں کہا کہ  یورپی حکومتیں واضح طور پر بورجام کے مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہیں۔ اگر چہ ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کے مقابلہ میں یہ عزم کمزور ہے۔

انہوں نے تمام تر دباؤ اور معاشی و مسلط شدہ جنگ کے باوجود گذشتہ 40 برسوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی بقا اور استحکام کی وجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے  کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مغربی میڈیا کی پیش گوئوں کے برخلاف اسلامی جمہوریہ ایران چالیس سال کے بعد ابھی بھی کھڑا ہےجس کی  پہلی وجہ یہ ہے کہ ایرانیوں کی بھاری اکثریت انقلاب کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت نے شاہنشاہی حکومت کے دوران ہونے والی غلطیوں کو دہرایا نہیں ہے۔

فرانسیسی سفارت کار نے اپنی ایرانی ثقافت سے واقفیت کے بارے میں یہ بھی کہاکہ اگر ہم ایرانیوں کی بہت ہی اعلی سطحی تعلیم اور بہت ہی پرانی ثقافت پر غور کریں تو یہ بات واضح ہے کہ ایران میں بہت وسیع ترقی کی صلاحیت موجود ہےاگرچہ جنگ ، غیر ملکی دباؤ ، پابندیوں ، جیسے نامناسب حالات کی وجہ سے اس کی غیر معمولی صلاحیت ابھی تک پنپ نہیں سکی ہے.

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha