ایرانی حکومت کیجانب سے قانون کے نفاذ میں یورپی مداخلت حیرت انگیز ہے: قالیباف

تہران، ارنا – ایرانی اسپیکر نے تینوں یورپی ممالک کے حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے پابندیوں کے اٹھانے کے قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے لیے یورپیوں کی درخواست حیران کُن اقدام ہے۔

یہ بات محمد باقر قالیباف نے آج بروز منگل ایران میں تعینات اطالوی سفیر 'جوزپہ پرونہ کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ایران - اٹلی  کے درمیان 160 سالہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  تعلقات کی اس سطح سے ایران اور اٹلی کے مابین اچھے تعاون کا باعث بنی ہے اور دونوں ممالک کے مابین جذباتی تعلقات کو پارلیمانی سفارت کاری اور پارلیمنٹ اور حکومتوں کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنا چاہئے۔

اٹلی یورپی یونین کا ایک سرگرم عنصر ہے انہوں نے مزید کہاکہ ایران - اٹلی کے تعلقات کو امریکہ کے یکطرفہ ، غیر انسانی اور غیر قانونی اقدامات اور طرز عمل سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔

قالیباف با بیان اینکه حجم مناسبات دو کشور متناسب با ظرفیت‌های موجود نیست، خاطرنشان کرد: باید روابط دو کشور بیش از گذشته افزایش یابد. شرکت‌ها و بانک‌ها می‌توانند روابط را حفظ کنند و مانع زورگویی آمریکا و تاثیر بر عمق روابط کشورها شوند.

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا حجم موجودہ صلاحیتوں کے مطابق نہیں ہے تو دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھنا چاہئے.

قالیباف نے کہا کہ کمپنیاں اور بینک تعلقات کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ممالک کے گہرے تعلقات پر امریکی جبر کو روک سکتی ہیں۔

اس موقع پر اطالوی سفیر نے کہا کہ اٹلی ایران کے ساتھ تجاوتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں برسر اقتدار نئی حکومت کے ساتھ ممالک کے لئے ماضی کے مقابلے میں باہمی تعاون کا ایک اچھا موقع فراہم ہوگا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 14 =