یونیسکو میں تعینات ایرانی سفیر کا فخری زادہ کے قتل کی مذمت کا مطالبہ

تہران، ارنا- عالمی ثقافتی تنظیم (یونیسکو) میں تعینات ایران کے مستقل مندوب نے شہید فخری زادہ کے قتل سے متعلق خاموشی کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہوئے اس دہشتگردی کاروائی کی مذمت کا مطالبہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار"احمد جلالی" نے جمعہ کے روز یونیسکو کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یاد رکھیں کہ اس تنظیم کے قیام کے موقع پر اس کے نام کو "uneco" رکھنے کا فیصلہ تھا یعنی اس میں s کا حرف نہیں تھا تا ہم نوجوان سائنسدانوں کے گروپ نے تنظیم کے بانیوں کو قائل کیا کہ "سائنس" واضح طور پر تنظیم کے ستونوں میں سے ایک ہونا ہوگا؛ "یونیسکو" کیونکہ سائنسدان، محقق اور معاشرے کے دانشور ترقی کے علمبردار ہیں۔

جلالی نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں یہ سائنسدان ہی ہیں جنہیں دیسی ضرورتوں پر مبنی سائنسی ڈھانچے کی تعمیر کرنی ہوگی لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان میں سے بہت سے ممالک میں سائنسدان ملک کو چھوڑتے ہیں یا کہ ان سے کہیں زیادہ المناک بات یہ ہے کہ ان کا قتل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے حالیہ دنوں میں دہشتگرد کے ہاتھوں ایران کے ایک اور سائنسدان کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سالوں سال ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے سائنسدانوں کے قتل پر خاموش بیٹھ کے کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔

ایران کے مستقل مندوب نے شہید فخری زادہ کے قتل سے متعلق خاموشی کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہوئے اس دہشتگردی کاروائی کی مذمت کا مطالبہ کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر میں تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں مسلح افراد نے ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر حملہ کیا؛ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے قریب دھماکا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سائنس دان محسن فخری زادہ شدید زخمی ہوگئے، اُنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha