ایران کا عالمی جوہری ادارے سے فخری زادہ کے قتل کی مذمت کا مطالبہ

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے عالمی جوہری ادارے کے سربراہ کے نام میں ایک خط میں ان کیجانب سے جوہری اور دفاعی شعبے میں اعلی ایرانی سائنسدان کے قتل کی واضح طور پر مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کا قتل در اصل گزشتہ سالوں کے دوران بشمول 2010، 2011 اور 2012 میں دہشتگردانہ اقدمات میں ایرانی سائنسدانوں کے قتل کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کی بین الاقوامی برادری اور تنظیموں کیجانب سے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب "کاظم غریب آبادی" نے عالمی جوہری ادارے کے سربراہ "رافائل ماریانو گروسی" کے نام میں ایک خط کہا ہے کہ ایران توقع رکھتا ہے کہ عالمی توانائی جوہری ادارہ، اس دہشتگردی کاروائی کی کھلی طور پر مذمت کرے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی جوہری ادارے کو جوہری سائنسدانوں کے قتل اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے ایک رکن کی جوہری تنصیبات کیخلاف تباہ کن اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرنی ہوگی۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ 2010 میں جوہری شعبے میں پہلے ایرانی سائنسدان کے قتل کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی جوہری ادارے کے اس وقت کے سربراہ کے نام میں ایک خط میں عالمی ادارے کی رپورٹس میں ماہرین اور سائنسدانوں کے ناموں کے ذکر پر احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توقع کی جاتی ہے کہ عالمی جوہری ادارے مستقبل کی رپورٹس میں ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق غیر ضروری معلومات کی اشاعت کا خاتمہ دے۔

واضح رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر میں تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں مسلح افراد نے ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر حملہ کیا؛ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے قریب دھماکا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سائنس دان محسن فخری زادہ شدید زخمی ہوگئے، اُنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے شہید  فخری زادہ کے قتل کی ذمہ داری ناجائز صہیونی ریاست پر عائد کی ہے۔

ظریف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ شہید فخری زادہ کے قتل میں ناجائز صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بھی ایٹمی اور دفاعی شعبے میں اعلی ایرانی سائنسدان کی شہادت میں ملوث افراد کی شناخت اور سزا دینے پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ محسن فخری زادہ ایران کی وزارت دفاع کی ریسرچ اورانوویشن تنظیم کے سربراہ تھے اور وہ ایران کے سینیئر ترین ایٹمی سائنسدان تھے؛ محسن فخری زادہ کا شمار ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں ہوتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha