یورپ اور امریکہ کو جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں کو نبھانا ہوگا: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ اور امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں کو نبھانا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز جمعرات کو "بحیرہ روم ڈائیلاگ" آن لائن اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ کو اپنے جوہری وعدوں کا نبھاننا ہوگا تو اس کے بعد ایران بھی اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترے گا۔

انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا وہ جوہری معاہدے میں از سر نوشمولیت سے اپنے نیک نیتی کا ظاہر کرے۔

ظریف نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے بنیادی اور ابتدائی وعدوں پر قائم رہے تو ایران بھی جوہری وعدوں پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ جوہری معاہدے سے علیحدگی سے قبل کی صورتحال پر واپس آسکتا ہے؛ ہماری تجویزیں بشمول ہرمز امن منصوبہ تو بجائے خود باقی ہیں۔

ظریف نے پڑوسی ملکوں سے تعاون پر دلچسبی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو نیک نیتی سے اقدامات اٹھانا ہوگا تا کہ علاقے میں تباہ کن واقعے سے بچ سکیں۔

انہوں نے تین ایرانی قیدیوں کو ایک برطانوی- آسٹریلیوی نژاد قیدی کے تبادلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مزید قیدیوں کے تبادلہ پر تیار ہے۔

انہوں نے علاقے اور دنیا میں قیام امن اور سلامتی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیگر ملکوں میں بد امنی پھیلانے کے ذریعے اپنے لیئے امن نہیں خرید سکتے۔

ظریف نے ایران میں کورونا کی روک تھام سے متعلق طبی ٹیموں کی ساری کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں اور معاشی جنگ نے ہمیں بہت سارے مسائل کا سامنا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو دیگر ملکوں میں اپنے مالی وسائل تک رسائی پر پابندی عائد کی ہے اور یہ انسانیت کیخلاف جرم ہے۔

ظریف نے کہا کہ امریکہ ایران پر پہنچے گئے تمام نقصانات کا ذمہ دار ہے اور ہم  مذاکرات کیے گئے مسائل پر پھر دوبارہ مذاکرات نہیں کریں گے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 پر قائم رہنا ہوگا۔

انہوں نے خلیج فارس میں مغربی ملکوں کے تباہ کن اقدامات اور اس علاقے میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت اور بھیجنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا کہ مغرب نے یمنی جنگ کی حمایت کی ہے؛ مغرب نے ناجائز صہیونی ریاست کی دہشتگردی کی حمایت کی ہے؛ جب مغرب ان جیسے تباہ کن اقدامات سے دستبردار ہوجائے تو پھر دیگر مسائل پر بات کرسکتے ہیں۔

انہوں نے اعلی ایرانی سائنسدان "محسن فخری زادہ" کے قتل کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم یورپی ٹروئیکا کیجانب سے اس واقعے کی مذمت کی توقع رکھتے ہیں جو ابھی نہیں کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha