ایران میں تیار گریوا کینسر کی ویکسین دسمبر تک بڑے پیمانے پر پیداوار ہوگی

تہران، ارنا- ایرانی وزرات صحت کے دائریکٹر مینجر برائے ٹیکنالوجی کی ترقی کے امور نے کہا ہے کہ دسمبر کے اختتام تک ملک میں تیار گریوا کینسر ویکسین (ایچ پی وی) کی بڑے پیمانے پر پیداوار ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "حسین وطن پور" نے جمعرات کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ایک علم پر مبنی کمپنی نے اس ویکسین کی تیاری میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایرانی عوام کو مستقبل قریب میں اس ویکسین تک رسائی حاصل ہوگی۔

وطن پور نے کہا ہے کہ اس ویکسین کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کیلئے متعلقہ جواز حاصل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر چہ پابندیوں نے ہمیں بہت سارے مسائل کا سامنا کیا ہے تا ہم ایرانی ماہرین نے اس ویکسین کو ملک کے اندر تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

وطن پور نے کہا کہ دنیا میں 16 سے 18 سال تک کی عمر کی لڑکیاں، گریوا کینسر سے بچانے کیلئے ویکسنیٹ ہوجاتی ہیں جو 35 سال سے زائد کی عمر میں گریوا کینسر سے بچانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ گریوا کینسر ایک مہلک قسم کا کینسر ہے جو گریوا میں خلیوں کی غیر معمولی تقسیم کا سبب بنتا ہے جس کے نتیجے میں ایک عورت کی بچہ دانی کے نیچے حصے میں غیر فطری تکلیف ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ، خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی پیپیلوما وائرس گریوا کے کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس قسم کے کینسر کی تشخیص کرنے والی زیادہ تر خواتین کو کئی عشروں کے انسان پیپیلوما وائرس کے انفیکشن کے بعد اس کی نشوونما ظاہر کی جاتی ہے۔

انسانی پیپیلوما وائرس جینیاتی مسسا یا گریوا کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم HPV کو ان پیچیدگیوں کے خاتمے سے بچایا جاسکتا ہے اور یہ 9 سے 26 سال کی عمر کے نوجوان بالغ افراد کو تجویز کردہ تین HPV ویکسین کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے؛ یہ ویکسین HPV انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 7 =