1 دسمبر، 2020 4:41 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84131478
0 Persons
انسٹاگرام کے انداز میں اظہار رائے کی آزادی

تہران، ارنا- انسٹاگرام نے اپنے تازہ ترین متعصبانہ اقدام میں جو اس سے قبل شہید قاسم سلیمانی کے قتل کے دوران کیا تھا، شہید محسن فخری زادہ سے متعلق ان پوسٹس کو حذف کردیا جن میں اس شہید کی تصویر یا نام موجود تھے؛ ایسی کارروائی جس نے سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کے تصور پر کسی بھی چیز سے زیادہ سوالیہ کا نشان لگایا ہے۔

ایرانی جوہری سائنسدان شہید محسن فخری زادہ کے قتل کے بعد انسٹاگرام نے بھی فخری زادہ سے متعلق پوسٹیں اور اسٹوریاں ہٹا دیں اور سائبر سپیس میں اس شہید کا پھر سے مجازی قتل کیا۔

اس سے قبل؛ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کیساتھ ہی اس پلیٹ فارم جس کا ملکیت فیس بک ہے، نے شہید سلیمانی سے متعلق اور ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف تمام پوسٹس کو ہٹایا تھا۔

انسٹاگرام نے صارفین کی پوسٹس اور نیوز ایجنسی سے متعلق صفحات کو حذف کرنے کے علاوہ ایسے مشہور صفحوں کو حذف کردیا گیا جس میں قاسم سلیمانی شامل تھے۔

انسٹاگرام نے ایک اور اقدام میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صفحے کے ٹیگز سیکشن کو بند کردیا؛ کیونکہ صارفین نے قاسم سلیمانی سے متعلق خطوط پر ٹرمپ کے نام کو ٹیگ کیا تھا۔

لیکن یہاں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سی این این، بی بی سی، وائس آف امریکہ اور برطانیہ، امریکہ، اور سعودی عرب سے وابستہ دیگر ذرائع ابلاغ نے اپنے پوسٹس کو بغیر کسی حذف کے شائع کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 6 =