جنیوا میں ایرانی سفیر کا فخری زادہ کے قتل پر اقوام متحدہ کے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ

تہران، ارنا - جنیوا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے نے ایران کے ممتاز سائنسدان کے قتل کیلیے اقوام متحدہ کے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کیا۔

یہ بات اسماعیل بقایی ہامانه نے آج بروز منگل  اقوام متحدہ کی اعلی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باشلٹ کو لکھے گئے ایک خط میں کہی۔

انہوں نے اس مراسلے میں ایرانی وزارت دفاع کی ریسرچ اور اینڈ انوویشن آرگنائزیشن کے سربراہ 'سید محسن فخری زادہ کے قتل کیلیے اقوام متحدہ کے سنجیدہ اقدام اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اس خط میں صیہونی حکومت کے اس گھناؤنے اقدام میں ملوث ہونے کے سنگین شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے  اس اقدام کو بین الاقوامی قانون ، انسانی حقوق اور تمام اخلاقی اقدار کی سنگین خلاف ورزی قرار دے کر  ان کو قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر ریاستی دہشت گردی کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔

واضح رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر میں تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں مسلح افراد نے ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر حملہ کیا؛ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے قریب دھماکا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سائنس دان محسن فخری زادہ شدید زخمی ہوگئے، اُنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha