نائب ایرانی صدر کی شنگھائی اراکین کو چابہار- زاہدان ریلوے لائن منصوبے میں حصہ لینے کی دعوت

تہران، ارنا- نائب ایرانی صدر نے افغانستان اور وسطی ایشیا کے راستے میں چابہار بندرگاہ کے ریل رابطوں کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین سے چابہار- زاہدان ریلوے لائن منصوبے میں حصہ لینے کی دعوت دی۔

ان خیالات کا اظہار "اسحاق جہانگیری" نے پیر کے روز بھارت میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے اعظم کی کونسل کے 19 ویں اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے ایران جوہری معاہدے کو حالیہ دہائی کی سب سے اہم بین الاقوامی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے امریکی علیحدگی اور یورپی فریقین کیجانب سے اپنے وعدوں پر پورا نہ اترنے کے باوجود؛ پھر بھی اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ جوہری معاہدے کے نفاذ سے ایران کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ہے لیکن اس نے کثیر جہتی نقطہ نظر کو تقویت دینے کیلئے اس بین الاقوامی معاہدے پر فریقین کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں توازن کی واپسی کی کوشش کی ہے۔

جہانگیری نے کہا کہ چونکہ امریکی یکطرفہ پابندیاں عالمی آزاد تجارت کیخلاف ایک اقدام ہے اور اسے اپنے کسی بھی سیاسی یا معاشی حریف کیلئے دہرایا جاسکتا ہے لہذا ایس سی او کو اس طرح کے غیر قانونی اقدامات کے سدباب کیلئے مناسب اقدامات کرنا ہوگا۔

انہوں نے دنیا میں عالمگیر وبا کورونا وائرس کے پھیلاو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اس وبا پر قابو پانے کی بھر پور کوشش کی ہے تا ہم امریکی پابندیاں اور ایران کیخلاف معاشی جنگ نے ہمیں بہت سارے مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

 نائب ایرانی صدر نے داعش کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے تعمیری اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لیکن بڑی افسوس کی بات ہے کہ اب ایران کو ریاستی دہشتگردی کا شکار ہے۔

انہوں نے خطی ممالک سے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مزید تعاون کا مطالبہ کیا اور ان سے ریاستی دہشتگردی کیخلاف خاموش نہ رہنے اور مناسب موقف اپنانے کا مطالبہ کیا۔

جہانگیری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک علاقے میں قیام امن اور استحکام کے سلسلے میں کاراباخ علاقے میں جنگ بندی کا خیر مقدم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اپنے خاص جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور معاشی مقام کی وجہ سے جو وسطی ایشیاء اور قفقاز، مغربی ایشیاء اور مشرق وسطی سمیت متعدد خطوں کو جوڑتا ہے اور شمال میں بحیرہ کیسپین اور جنوب میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان واقع ہے؛ وہ  خطے کا ایک سب سے امیر توانائی مرکز اور ٹرانسپورٹیشن ہائی ویز کی حیثیت سے مشترکہ معاشی مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کیساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے افغانستان اور وسطی ایشیا کے راستے میں چابہار بندرگاہ کے ریل رابطوں کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین سے چابہار- زاہدان ریلوے لائن منصوبے میں حصہ لینے کی دعوت دی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 1 =