ایرانی سائنسدان کے واقعے کی حقیقت کی تلاش کر رہے ہیں: برطانیہ

لندن، ارنا – برطانوی وزارت خارجہ نامور ایرانی جوہری اور دفاعی سا‏ئنسدان "محسن فخری زادہ" کے قتل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت اس واقعے کی حقیقت کی تلاش کر رہی ہے۔

یہ بات برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اتوار کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے تحریری سوال کے جواب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایرانی سائنسدان کے قتل پر شائع ہونے والی ریپورٹوں کی مبنی پر اس واقعے کی سچائی کی تلاش میں ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر میں تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔
ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں مسلح افراد نے ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر حملہ کیا؛ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے قریب دھماکا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سائنس دان محسن فخری زادہ شدید زخمی ہوگئے، اُنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔
 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے شہید  فخری زادہ کے قتل کی ذمہ داری ناجائز صہیونی ریاست پر عائد کی ہے۔
ظریف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ شہید فخری زادہ کے قتل میں ناجائز صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے بین الاقوامی برادری کو ریاستی دہشتگردی کی مذمت اور علاقے میں مہم جوبی اور کشیدگی پیدا کرنے والوں کیخلاف اجتماعی تعاون کی دعوت دی۔
برطانیہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "حمید بعیدی نژاد" نے لندن سے دفاعی اور جوہری شعبے میں اعلی ایرانی سائنسدان کے قتل کی مذمت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے فخزی زادہ کے قتل کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی معیار و اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا۔
بعیدی نژاد نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شہید فخری زادہ کے خون کا بدلہ ضرور لے گا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha