ایرانی کمپنیاں کورونا کی نئی نسل کی ویکسین تیار کرنے کیلئے کوشاں ہیں

تہران، ارنا- کورونا کی نسل کی ویکسین جسے "ایم آر این اے" کہا جاتا ہے، دیگر ویکسین سے مزید موثر ثابت ہوگئی ہیں اور ایران میں متعدد کمپنیاں اسی ویکسین کو تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار کورونا کی روک تھام کمیٹی کے سرابرہ نے پیر کے روز گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے ممالک کورونا ویکسین بنانے کی کوشش کر رہی ہے؛ اور اس حوالے سے تمام ممالک ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں تا کہ وہ منظور شدہ ویکسین کو جلد سے جلد مارکیٹ میں لائیں گے اور اس بحران پر قابو پا سکیں گے۔

لیکن وہ مسئلہ جسے فراموش نہیں کیا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ جو ملک یہ مقابلہ جیتتا ہے وہ اس ویکسین کی ایک بڑی مقدار تیار نہیں کر سکے گا جو تمام ممالک کیلئے موزوں ہے۔ 

تاہم اس سلسلے میں ایران کی شرایط قدرے مختلف ہیں کیونکہ ہماری ملک کیخلاف پابندیاں لگائی گئی ہیں اور دیگر ملکوں کی تیارکردہ ویکسین تک آسانی سے رسائی حاصل نہیں ہوگی لہذا ہمیں اس حوالے سے میدان میں آکر مزید کوشش کرنی ہوگی۔

اس حوالے سے ایرانی محکمہ صحت کے نائب سربراہ نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ ایران میں کرونا وائرس ویکسین کی تیاری حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس پروجیکٹ کے پری کلینیکل مرحلے میں ہیں اور ابھی تک انسانی طبی جانچ کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے طویل عرصے کے کام کی ضرورت کے سوال کے جواب میں کہا کہ تحقیقی سرگرمیوں کے عین وقت کا اعلان نہیں کیا جاسکتا، لیکن ہمارے محققین اس کو حاصل کرنے کیلئے سخت کوشش کر رہے ہیں؛ دوسرے لفظوں میں، ہمیں یہ ویکسین بنانے کے عمل کو کامیابی کیساتھ مکمل کرنے کیلئے مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔

ملک زادہ نے ایران میں کورونا وائرس کی تیاری کا عمل کچھ سست کیوں ہے، کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارے پاس کچھ ضروری انفراسٹرکچر نہیں ہے اور ہم انہیں ملک میں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہم نے کورونا ویکسین بنانے کے علم کو حاصل کیا ہے لیکن انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی ضروری ہے جس کی ہمیں امید ہے کہ جلد سے جلد اسے حاصل کیا جائے۔

اس کے علاوہ  ایرانی وزیر صحت "سعید نمکی" نے حالیہ دنوں میں ملک میں کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے ہونے والی پیشرفتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی کمپنیوں میں تیارکردہ کرونا ویکسین بہت جلد جانوروں پر آزمائش کے مرحلے سے گزر کر انسانی مطالعے کے مرحلے میں داخل ہوگی۔

نمکی نے مزید کہا کہ اب 12 علم پر مبنی ایرانی کمپنیاں، کورونا وائرس کی تیاری کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایرانی وزیر صحت نے کہا کہ ان کمپنیوں میں سے 4 کمپنیوں نے اس حوالے سے کافی ترقی کی ہے اور وہ اب کورونا وائرس کی ویکسن کی تیاری کیلئے جانوروں پر مطالعے کے مرحلے کو مکمل کر چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ چار کمپنیاں، بہت جلد کرونا ویکسن کی تیاری کے تیسرے مرحلے یعنی انسانی مطالعے کے مرحلے میں داخل ہوں گی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha