کابل دہشتگردی حملہ افغانستان میں امریکی پروکسی وار کی ایک چھوٹی مثال ہے

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کابل کے حالیہ دہشتگردی حملے کو افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی کی پروکسی وار کی ایک چھوٹی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حملے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سیعد خطیب زادہ" نے کابل کے گرین زون میں، جہاں متعدد سفارت خانے بشمول ایرانی سفارتخانے اور بین الاقوامی کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں، راکٹ حملوں کے سوال سے متعلق جواب میں کیا۔

انہوں نے افغان عوام اور سیویلین علاقوں کا نشانہ بنانے والے ہر قسم کے حملے کی شدید مذمت کی۔

خطیب زادہ نے افغان عوام اور حکومت بالخصوص اس حادثے کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں کابل میں قائم ایرانی سفارت خانے کی مرکزی عمارت راکٹ حملے سے متاثر ہوئی ہے؛ تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور سارے عملے محفوظ ہیں۔

انہوں نے اس حملے کو افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی کی پروکسی وار کی ایک چھوٹی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حملے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔

واضح رہے کہ کابل کو آج صبح نو بجے کے قریب راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن علاقوں میں راکٹ گرے ان میں گرین زون بھی شامل ہے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے شہر پر 14 راکٹ داغے، جن میں ابتدائی معلومات کے مطابق 3افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 5 =