نطنز جوہری تنصیبات میں کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں کی گئی ہے: سربراہ عالمی ایٹمی ایجنسی

لندن، ارنا- عالمی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے ایران جوہری معاہدے کی شفاف کارکردگی سے متعلق آئی اے ای اے کی تازہ ترین رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نظنز جوہری تنصیبات میں کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں کی گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "رافائل گروسی" نے بدھ کے روز ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی ایجنسی کے انسپکٹرز کے مطابق، نظنز میں ایندھن کی افزودگی پلانٹ تجرباتی سے بدل کر آپریشن کیلئے تیار ہوچکا ہے لیکن ابھی تک کوئی قابل ذکر سرگرمی نہیں کی گئی ہے۔

گروسی نے کہا کہ یہ ایران جوہری وعدوں سے بالاتر ہے اور ایران کی مجموعی جوہری سرگرمیوں کے نتائج کے مقابلے میں یہ تبدیلی زیادہ اہم نہیں ہے۔

عالمی جوہری ادارے کے سربراہ نے گزشتہ روز میں بھی ایک رپورٹ شائع کیا جس میں کہا گیا تھا کہ آئی اے ای اے کے انسپکٹرز نے 14 نومبر کو نطنز جوہری تنصیبات میں 174 سنٹری فیوجز "آئی۔ آر۔ ایم۔2" کے چین میں "یو ایف۔6" گیس انجکشن کے آغاز کا جائزہ لیا ہے۔

بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی طرف سے عالمی طاقتوں کیساتھ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا ایک اور اقدام قرار دیتے ہوئے جس میں تہران کو صرف پہلی نسل کے سامان سے افزودہ یورنیم ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔

گروسی نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے باہمی مفاہمت کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں کا بدستور جائزہ لے شفاف کارکردگی کی توثیق کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ میہنوں کے دوران، اپنے دورہ ایران کے موقع پر ایرانی حکام سے ملک میں دو مقامات تک رسائی سے متعلق بات چیت کی گئی ہے۔

گروسی نے کہا کہ عالمی ایٹمی ایجنسی نے ایڈیشنل پروٹوکول کے مطابق ان مقامات میں سے ایک تک رسائی حاصل کرلی اور انسپکٹرز نے ماحول کا نمونہ پیش کیا جو بعد میں بعد معائنہ کیا جائے گا اور رواں مہینے کے دوران دوسری جگہ میں رسائی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالی جوہری توانایی ادارے کے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں دونوں مذکورہ مقامات پر رسائی حاصل کیا گیا ہے۔

جوہری ادارے نے گزشتہ مہینے کے دوران ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ وہ ایران کے اعلان کردہ جوہری تنصیبات کا بے مثال معائنہ کر رہا ہے اور ان جگہوں کے معائنہ کرنے پر زور دیا ہے جہاں 2000ء کے ابتدا میں ایٹمی مواد پر چھوٹی پیمانے پر تحقیق کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی ایٹمی ایجنسی نے رافائل گروسی کے حالیہ دورہ ایران کے اختتام کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

بیان کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 16 جنوری 2016 سے عارضی طور پر ایران میں نافذ کردہ جوہری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے معاہدے اور ایڈیشنل پروٹوکول کے مکمل نفاذ میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اپنے تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی اعتماد کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =