18 نومبر، 2020 1:33 PM
Journalist ID: 2393
News Code: 84114958
0 Persons
تہران اور کابل کا مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور

کابل، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان کے امور  نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بات"محمد ابراہیم طاہریان فرد" نے آج بروز بدھ افغان صدر 'محمد اشرف غنی' کے ساتھ ایک ملاقاتکے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے دونوں ممالک کے مابین مشترکہ تعاون کے فروغ پر زور کے ساتھ ساتھ امن مذاکرات ،علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

طاہریان نے اس ملاقات کےدوران افغانوں کی زیرقیادت اور ملکیت میں افغان انٹرا ڈائیلاگ  سے ایران کی مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔

غنی نے اقتصادی پروگراموں کے حوالے سے افغانستان، ایران اور خطے کے ممالک کے مابین تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے نے کہا کہ اس اتفاق رائے کو ہمارے ایجنڈے پر ہونا چاہئے۔

ملاقات کے دوران اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور ہمارا ملک بلا شبہ امن کے لئے پرعزم ہے۔

افغان صدر نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے ممالک کے لئے بھی خطرناک ہیں اور ہمیں دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں مضبوط اتفاق رائے حاصل کرنا ہوگا۔

افغانستان اور خطے میں دہشت گردی کی نقل و حرکت کا حوالہ دیتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ دہشت گرد صرف ایک یا ایک سے زیادہ گروہوں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ یہ کہ دہشت گرد گروہوں جیسے القاعدہ، داعش اور دیگر گروپس سے افغانستان اور خطے کے ممالک کے مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان سیکیورٹی اور دفاعی افواج کی جدو جہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو بھی ایک مضبوط ارادے کے ساتھ دہشت گردی اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف جنگ کرنا ہوگی۔

اشرف غنی نے افغانستان کی معاشی اور تجارتی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وسطی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ منسلک ہونے کیلیے ٹرانزٹ اور تجارت کے مواقع کا استعمال کیا جانا چاہئے۔

 طاہریان نے گذشتہ روز افغان ہائی کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کر کے دوحہ میں جاری امن مذاکرات ، امن عمل کی حمایت کیلیے علاقائی اتفاق رائے اور باہمی تعاون کی اہمیت پرتبادلہ خیال کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 1 =