ایرانی قوم کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی پر خاموش رہنے کی تنقید

تہران، ارنا- ایرانی عدلیہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس کونسل نے اقوام متحدہ کے سربراہ کے نام میں ایک خط میں امریکہ اور مغربی ممالک کیجانب سے ایرانی قوم کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزی پر خاموش رہنے کی تنقید کی ہے۔

"علی باقری کنی" نے بعض ممالک کیجانب سے اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی میں ایران میں انسانی حقوق کیخلاف ورزی سے متعلق قرار داد کی منظوری کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور وہ ایران میں انسانی حقوق کے حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس کی تجویز کے بانیوں کو اپنی قوم سمیت ایرانی قوم، علاقائی ممالک کے عوام بشمول فلسطین اور یمن کے حقوق کیخلاف ورزی میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔

باقری کنی کا کہنا ہے کہ کینیڈا جو ایرانی قوم کیخلاف انسانی حقوق کی قرارداد کا بانی ہے؛ منظم طریقے سے انسانی حقوق کیخلاف ورزی کر رہا ہے کیونکہ کینیڈا میں حکومت نے مقامی لوگوں کو، جو کینیڈا کی سرزمین کے اصل مالک ہیں، کو اپنے بنیادی اور واضح حقوق سے محروم کردیا ہے اور ان پر یورپی مہاجرین کے حقوق کی ترجیح دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا میں خواتین اور لڑکیوں کیخلاف تشدد اس حد تک ہے کہ انسانی حقوق تنظیموں نے اسے "نسل کشی" قرار دے دیا ہے۔

باقری کنی نے کہا کہ اس قرارداد کے بانی وہ ممالک ہیں جنہوں نے ایرانی عوام کے قتل میں ملوث دہشتگردوں کی مختلف طریقوں سے حمایت کی ہے یا کہ ایران کیخلاف امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے سے ایران کیخلاف شدید پابندیوں کا نفاذ کیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 10 =