ایران  اور عراق کا مقصد تجارت میں 20 ارب ڈالر تک پہنچنا ہے

بغداد، ارنا – عراق کے شہر سلیمانیہ میں ایرانی قونصلر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کا مقصد ہر سال تجارت میں 20 ارب ڈالر تک پہنچنا ہے۔

یہ بات "مہدی شوشتری" نے پیر کے روز سلیمانیہ کے نیوز چینل (SNN) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے ایران اور عراق کے علاقے کردستان اور صوبے سلیمانیہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے صدور نے ہر سال تجارت میں 20 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اتفاق کیا ہے۔
شوشتری نے کرونا وائرس کے دوران عراقی علاقے کردستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے عہدیداروں کی سمجھداری اور معاہدے کے ساتھ کرونا وائرس کے دوران سرحدوں میں صحت کے تمام پروٹوکول کی تعمیل کے ساتھ تجارتی تبادلے جاری رہے۔
انہوں نے دو صوبوں سلیمانیہ اور حلبچہ کے ساتھ تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے مشترکہ سرحد کی 600 کلومیٹر سے زیادہ اور دو سرکاری سرحدوں "پرویز خان اور باشماق" اور 4 سرحدی بازاروں کی سرگرمی اور گہری جڑ والے تاریخی تعلقات اور ثقافتی اور معاشرتی مشترکات کی وضاحت کی۔
ایرانی قونصلر جنرل نے حلبچہ میں کیمیاوی حملے اور اس کے عوام سے ایران کی میزبانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حلبچہ کی اہم پوزیشن کی وجہ سے ہم اس صوبے کی فلاح اور بہبودی کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مختلف تاریخی ادوار حلبچہ کے کیمیائی حملے، داعش دہشتگردوں کے ساتھ جنگ جیسی مشکلات اور آفات میں کردستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہوا ہے اور ابھی بھی اس کی ترقی کے لئے پوری طرح تیار ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 13 =