15 نومبر، 2020 11:42 AM
Journalist ID: 2393
News Code: 84110772
0 Persons
ایران اور پاکستان؛ مَنی ایکسچینج کے بغیر تجارت

تہران، ارنا - ایک طرف اسمگلنگ اور دوسری طرف امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران اور پاکستان کے مابین تجارت کی کمزوری، دونوں ممالک کے مابین خاص طور پر بارٹر کی شکل میں تجارتی راستوں کا جائزہ لینے کا باعث بنی ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق محمد جواد ظریف ایک سیاسی ، فوجی اور معاشی وفد کی سربراہی میں گذشتہ ہفتے منگل کی رات اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے فوجی اور سیاسی شخصیات سے ملاقات کی جن میں پاکستانی آرمی کمانڈر جنرل باجوا ، پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اس ملک کے وزیر اعظم عمران خان شامل تھے۔

واضح رہے کہ ظریف موجودہ حکومت کے آغاز سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے 10 بار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور ان کا حالیہ دورہ ظریف کا 11 واں دورے پاکستان ہے۔

پاکستان کی اقتصادی پوزیشن

پاکستان ایران کے سب سے اہم ہمسایہ ممالک میں سے ایک ہے اور اس کی آبادی ایران کے تمام پڑوسی ممالک سے زیادہ ہے۔

ایرانی چیمبر آف کامرس کے تازہ ترین اعدادوشمار کی بنیاد پر اس ملک کی آبادی 2018 کو 212 ملین افراد تھی۔

اگرچہ پاکستان ایران کے ایک اہم ہمسایہ ملک ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین معاشی تعلقات بہت اچھے نہیں ہیں۔ ایران نے 2018 میں پاکستان کو برآمد کرنے والے ممالک میں 30 واں نمبر حاصل کیا اور پاکستان کی درآمدی ضروریات کا 0.6 فیصد فراہم کیا۔ یہ تعداد اس ملک کے لئے بہت کم ہے جس کی ایران کے ساتھ 900 کلو میٹر سے زیادہ سرحد ہے۔ یہ تعداد وہ ملک جس کی ایران کے ساتھ 900 کلو میٹر سے زیادہ سرحد ہے، کے لئے بہت کم ہے ۔

لہذا ، معاشی تعلقات کے فروغ کے لئے محمد جواد ظریف کے 11 ویں دورہ پاکستان کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ اس توسیع کی سب سے بڑی رکاوٹیں اسمگلنگ اور پابندیاں ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
7 + 10 =