ایران میں 670 ٹن منشیات کو ضبط کر لیا گیا

تہران، ارنا- ایران میں انسداد منشیات کے پولیس چیف نے کہا ہے کہ رواں سال کے ابتدائی 7 مہینوں کے دوران، ملک میں 670 ٹن مختلف قسم کی منشیات کو ضبط کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضبط کی گئیں منشیات زیادہ تر ہیروئن اور مورفین تھیں جو یورپی ممالک میں اسمگل کی جانے والی تھیں۔

ان خیالات کا اظہار جنرل "مجید کریمی" نے ایران اور آذربائیجان کے انسداد منشیات کے پولیس چیف کے درمیان منعقدہ ویڈیو کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ باہمی تعاون سے علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ کیخلاف مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

کریمی نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر منشیات کی کاشت اور پیداوار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان سے بڑی سطح پر ایران میں منشیات کی اسمگلنگ کی جاتی ہے اور افغانستان سے ایران میں اسمگل شدہ منشیات کے سب سے زیادہ تر حصے کو یورپی ملکوں میں اسمگلنگ کی جاتی ہے اور جمہوریہ آذربائیجان بھی اسی راستے پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کورونا وائرس کے پھیلنے کے نئے تناظر میں ہم کرسٹال (میتھامفیتیمین) کی دریافت اور افغانستان سے ایران اس کی اسمگلنگ میں اضافے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال کے ابتدائی 7 مہینوں کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کی انسداد منشیات پولیس نے سمگلروں سے 10 ٹن سے زیادہ میتھامفیتیمین ضبط کرلی ہیں۔

کریمی نے علاقے میں منشیات کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے ایران کے اہم کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران منشیات کی اسمگلنک کا مقابلہ کرنے کیلئے خطی ممالک سے تعاون پر تیار ہے۔

واضح رہے کہ منشیات پکڑنے میں اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں پہلی پوزیشن رکھتا ہے۔

اس شعبے میں ایران نے چار ہزار سے زائد قربانی دی ہے بلکہ منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لئے ایران نے جانی اور مالی نقصانات بھی اٹھائے۔

ایران، پاکستان کے ساتھ پڑوسی ہونے اور افغانستان سے یورپ تک منشیات اسمگلنگ کرنے کے راستے میں واقع ہونے کی وجہ سے اس لعنت کی روک تھام کی فرنٹ لائن پر ہے اسی لیے ایران کو منشیات کے خلاف لڑائی میں سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان کا سامنا ہے۔

اب تک ہزاروں ایرانی اہلکار منشیات کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha