26 اکتوبر، 2020 6:24 PM
Journalist ID: 1917
News Code: 84089046
0 Persons
اقوام متحده جنگ اور یکطرفہ پن کیخلاف کھڑا رہے: ظریف

نیویارک، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے رواداری اور سمجھوتے کو امریکی غنڈہ گری کے فروغ کی وجہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے یکطرفہ پن اور جنگ کیخلاف مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے پیر کے روز اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 75 سال پہلے، اقوام متحدہ کا قیام دو خوفناک جنگوں کے بعد بین الاقوامی امن و سلامتی کی بحالی کیلئے کیا گیا تھا؛ لیکن ہم کتنے کامیاب رہے ہیں؟

 ظریف نے کہا کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق، 2001 کے بعد سے -"اقوام متحدہ کے مکالمے کا سال"- امریکہ کی "ابدی جنگوں" کے نتیجے میں 37 ملین افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2001 میں امریکہ نے 8 پرتشدد جنگیں شروع کیں یا اس میں شامل ہوئیں- جس کو "دہشت گردی کیخلاف جنگ" کے نام سے جانا جاتا ہے – ان جنگوں کے نتیجے میں سیکڑوں ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہوگئیں، لاتعداد برادری اور کنبے منتشر ہوگئے اور ساتھ ہی حکومتوں کی ناکامی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگیا۔

ظریف نے کہا کہ تو آج ، ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہماری دنیا 1945 کی نسبت زیادہ محفوظ یا کم محفوظ ہے؟ ہم کسی غنڈہ اور اس کیجانب سے بین الاقوامی قانون کی تذلیل سے کیسے نپٹ سکتے ہیں جو صرف تکبر سے بات کرنے اور طاقت کا غلط استعمال کرنے کو جانتا ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اور ہم وہ جس نے اپنی 244 سالہ تاریخ کے 220 سال کو جنگ میں گزارا ہے اور صرف 1945 کے بعد سے اپنی خواہشوں کی نافرمانی کرنے والوں کیخلاف 39 فوجی جنگیں اور 120 اقتصادی جنگیں کیں ہیں، پر کیسے قابو رکھ سکتے ہیں۔

ظریف نے کہا کہ وہ ہمیشہ ان "ابدی جنگوں" میں ہار گیا ہے؛ در حقیقت کوئی جنگ کا جیتنے والا نہیں؛ اب وقت بدل گیا ہے؛ امریکیوں کی خون اور دولت سمیت دنیا کو مزید بدحالی سے بچائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کو اپنے قیام کی 75 ویں سالگرہ میں یکطرفہ پن اور جنگ کیخلاف مقابلہ کرنا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 8 =