افغانستان کے مسائل کا حل افغان گروہوں کے درمیان سیاسی مذاکرات ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ افغان قوم برسوں کی جنگ اور تنازعات کے بعد اپنی کامیابیوں کے تحفظ کے لئے ایک حقیقی امن کو حاصل کریں اور اس مسئلے کا حل افغان گروہوں کے درمیان سیاسی مذاکرات ہے۔

یہ بات "حسن روحانی" نے پیر کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان کی اعلی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ "عبداللہ عبداللہ" کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اور سلامتی قائم رہے گی اور اس ملک کی قوم امن میں زندگی گذر کریں۔
صدر روحانی نے افغانستان کی اعلی قومی مفاہمتی کونسل کی امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے حمایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوست اور پڑوسی ملک میں امن، استحکام اور پائیدار سلامتی قائم کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے بہت ہی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جارح ملک کی حیثیت سے امریکی مداخلت اور موجودگی اس ملک کے عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق نہیں ہے اور امریکی حکومت جو خطے اور دنیا میں اپنی پالیسیوں میں ناکام رہی ہے افغانستان کے امن مذاکرات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔


قریب مستقبل میں خواف ہرات ریلوے کا افتتاح کیا جائے گا
انہوں نے دونوں ممالک درمیان اچھے تعلقات کی ترقی اور گہرائی پر زور دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور افغانستان کے درمیان طویل مدتی معاہدہ تمام شعبوں میں تعلقات کی ترقی اور گہرا ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے آنے والے دنوں میں خواف ہرات ریلوے کے افتتاح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اورافغان ریلوے کے رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون کو تقویت ملے گی اور ایران اپنی گیس اور تیل پائپ لائنوں کو افغانستان سے منسلک کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ افغان عوام کو ان توانائیوں کا استعمال کرسکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیسا کہ ہم ہمیشہ افغانستان کے عوام کے ساتھ رہے ہیں آئندہ بھی ہم اس ملک اور تمام پہلوؤں، نسلی گروہوں اور امن گروہوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ہمیں امید ہے کہ اس ملک میں پائیدار سلامتی دیکھنے کو ملے گی۔

ایران کے حمایتی پیغام کو کابل لیں گے
عبداللہ نے اس ملک میں پائیدار امن و سلامتی کے قیام میں ہونے والی پیشرفتوں اور کوششوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت اور مواقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایک اچھا دوست اور پڑوسی ہے۔
انہوں نے اس ملک میں برسوں کی جنگ اور تنازعہ کے دوران افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے دورہ تہران کے دوران اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں سے اچھی ملاقاتیں کیں اور کابل کو ایرانی حمایت کا پیغام لیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں پر عمل پیرا ہوں گے۔
افغانستان کی سپریم قومی مفاہمت کونسل کے چیئرمین نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کی حمایت اور موقف سے افغان امن مذاکرات اور اپنے ملک میں پائیدار سلامتی اور امن کے قیام کا مشاہدہ کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ، افغانستان کی سپریم قومی مفاہمت کونسل کے چیئرمین "عبد اللہ عبد اللہ" اتوار کے روز  اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات اور افغانستان میں دوطرفہ تعلقات اور امن و استحکام کے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے تین روزہ دورے کے دوران ایک وفد کی قیادت میں ایک اعلی پوزیشن والی سیاسی اور معاشی شخصیت تہران میں داخل ہوئی۔
انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف ، ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر توانائی رضا اردکانیان سے ملاقات کی اور آج سپریم سیکیورٹی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی سے ملاقات کریں گے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 14 =