ایرانی قوم کیلئے خوارک اور ادویات کی خریداری کی روک تھام انسانیت کیخلاف سنگین جرم ہے: ظریف

تہران، ارنا- ایرانی وزیر خارجہ نے دوسرے ملکوں میں اپنے مالی وسائل کے استعمال پر امریکی غیر قانونی پابندیوں اور ساتھ ہی ایرانی قوم کیلئے خوارک اور ادویات کی خریداری کی روک تھام کو انسانیت کیخلاف سنگین جرم قرار دے دیا۔

ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے آج بروز بدھ کو اپنے جاپانی ہم منصب کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر دنوں فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں سمیت باہمی دلچسبی امور پر بات چیت کی۔

ظریف نے "سوگا" کو وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے اور ساتھ ہی "موتہ گی" کو پھر سے وزیر خارجہ کے طور پر منتخب کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کرلیا کہ خطے میں قیام امن اور استحکام کیلئے جاپان کی تعمیری پالیسی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے جاپان میں ایران کے غیرملکی وسائل کے استعمال کے حق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کیلئے خوارک اور ادویات کی خریداری کی روک تھام کو انسانیت کیخلاف سنگین جرم ہے۔

ظریف نے کہا کہ جاپانی حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں بشمول قرارداد 2231 پر عمل پیرا ہونے کے فریم ورک کے اندر امریکہ کے اس غیرقانونی اقدام کو روک دے۔

انہوں نے کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے جاپان کیجانب سے ایران کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے باہمی تعلقات کی توسیع پر زور دیا۔

ظریف نے علاقے میں قیام امن اور استحکام سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے تعمیری کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ کا باعث بنے گی۔

اس موقع پر موتہ گی نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ سمیت کرونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے کیلئے جاپان میں موجود ایرانی مالی وسائل سے طبی امداد بھیجنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ  مشرق وسطی میں قیام استحکام سے متعلق جاپان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ان کا ملک ایران جوہری معاہدے کی بدستور حمایت کرتی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 2 =