خلیج فارس میں ہر کسی قسم کی غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے مخالف ہیں: عراقچی

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور نے خلیج فارس میں ہر کسی قسم کی غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے مخالف کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی نہ صرف قیام امن کا باعث نہیں ہوگا بلکہ اس سے مزید کشیدگی پیدا ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس عراقچی" نے بدھ کے روز اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات ڈنمارک کے نئے سفیر کیساتھ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے خلیج فارس میں غیر ملکی فوجیوں بشمول یورپی فوجیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں قیام امن و سلامتی خطی ممالک کے ذریعے ہی برقرار ہونا ہوگا اور علاقے میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی نہ صرف قیام امن کا باعث نہیں ہوگا بلکہ اس سے مزید کشیدگی پیدا ہوگی۔

عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس کی سلامتی خطے میں ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور خطے میں پائیدار سلامتی کا قیام، خطی ممالک کے مابین بات چیت اور اجتماعی شرکت اور غیر ملکی طاقتوں کی عدم مداخلت کے ذریعے فراہم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈنمارک اور دیگر یوروپی ممالک کو علاقائے کے کچھ ممالک کو فوج اور فوجی سازو سامان بھیجنے یا بھاری مقدار میں اسلحہ فروخت کرنے کی بجائے کشیدگی کی اصل وجہ یعنی امریکی تباہ کن پالیسیوں کیخلاف مقابلہ کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ دونوں فریقین نے بین المللی اور علاقائی مسائل، دہشتگردی کی روک تھام، مشرق وسطی کی صورتحال، مسئلے قراہ باغ اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی صورتحال پر بات چیت کی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 8 =